اسلام آباد (پی این ایچ)وزیراعظم شہباز شریف نے جھوٹ اور پراپیگنڈے کی بنیاد پر نوجوانوں کے ذہنو ں میں زہر گھولنے کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر شہداء کی قربانیوں کی توہین کرکے سرحد پاردشمن کی آواز سے آواز ملائی جاتی ہے،کچھ صوبوں نے این ایف سی میں ملنے والے وسائل سے فائدہ اٹھا کر بھرپور ترقی کی ، خیبرپختونخوا میں نظر نہیں آتی، چاروں صوبوں کی ترقی سے پاکستان آگے بڑھے گا،خیبرپختونخوا کو دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے 800ارب روپے دیئے، دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے تک قوم چین سے نہیں بیٹھے گی،افغانستان کی عبوری حکومت نے ہماری ایک نہیں سنی،پھر انہیں سبق سکھایا، اب انہیں فیصلہ کرنا ہے کہ پرامن ہمسائے کے طور پر رہنا ہے یا نہیں۔وہ قومی ورکشاپ میں خیبرپختونخوا کے شرکاء سے خطاب کررہے تھے ۔ اس موقع پرنائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وفاقی وزراء خواجہ محمد آصف، عطا اللہ تارڑ اوردیگربھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے خیبرپختونخوا کو پاکستان کا ایک انتہائی اہم اور سٹرٹیجک صوبہ قراردیتے ہوئے خیبرپختونخوا کے عوام کی غیرت ، جرات و بہادری کو سراہتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا نے دہشتگری کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان جنگ کے نتیجے میں جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا حصہ اور سب کے سامنے ہے ،40 لاکھ افغان پنا ہ گزین ہجرت کرکے آئے تو خیبرپختونخوا اور پاکستان کے عوام نے ان کی مہمان نوازی ، میزبانی اور خاطر داری میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی ،یہ بطور مسلمان اور ہمسایہ ہمار ا فرض تھا لیکن اس کے نتیجے میں پاکستان میں کلاشنکوف کلچر آیا اور ملک بھرمیں دہشت گردی نے سر اٹھایا جس میں ہزاروں بے گناہ شہید ہوئے ، خیبرپختونخوا اس جنگ میں فرنٹ لائن رہا ہے جہاں سیاست دانوں ،ڈاکٹرز، انجینئرز، پاک فوج ، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اور عام شہریوں نے اپنی جانیں قربان کیں جن کے نتیجے میں 2018میں دہشت گردی کا خاتمہ ہوگیا ، سانحہ اے پی ایس کے بعد سیاسی حکومت نے فیصلہ کیا کہ اب گڈ اور بیڈ طالبان کی کوئی تفریق نہیں ، ایک لاکھ جوانو ں ، افسروں اور عام شہریوں کی قربانیوں کی بدولت دہشت گردی کا خاتمہ ہوا لیکن اس ناسور نے 2018کے بعد پھر سر کیوں اٹھایا؟،یہ چبھتا ہوا سوال ہے جس کا جواب سب کو معلوم ہے،یہ فاش غلطی تھی، سوات سے سینکڑوں دہشتگردوں کو رہا اور افغانستان سے ہزاروں کو واپس لا کر بسایا گیا اس وجہ سے دہشت گردی دوبارہ شروع ہوئی جس نے ملک کی ترقی اور خوشحالی پر وار کیا، ہر روز کہیں نہ کہیں کوئی واقعہ ہوتا ہے جس میں ہمارا کوئی بہادر بیٹا جواپنے بچوں کو خدا حافظ کہہ کر محاذ پر جاتا ہے وہ دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوتا ہے اور اپنے بچوں کو یتیم کرکے قوم کے بچوں کویتیم ہونے سے بچاتا ہے، اس سے بڑھ کر کوئی قربانی کیا ہوسکتی ہے؟ ، اس قربانی کا جتنااحترام کیا جائے کم ہے لیکن سوشل میڈیا پر زہر اگلا جاتا ہے اور شہداء کی توہین کی ناپاک کوشش کرکے سرحد پار دشمنوں کی آواز سے آواز ملائی جاتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اب وقت ہے کہ ہم اس صورتحال اور طرزعمل کا جائزہ لیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام خارجی جو پاکستان کے اندر اور باہر سے حملہ آور ہیں ان کا قلع قمع کرنے تک قوم چین سے نہیں بیٹھے گی۔ وزیراعظم نے یاد دلایا کہ 2010میں این ایف سی ایوارڈ میں پنجاب نے پہل کی اور تمام صوبوں نے مل کر اپنے حصے سے ایک فیصد خیبرپختونخوا کو دہشت گردی کے مقابلے کیلئے دینے کا فیصلہ کیا، 15 برسوں میں 800 ارب روپے دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے خیبرپختونخوا کو دیئے گئے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے، بلوچستان کیلئے بھی پنجاب نے اپنے حصے سے ا ضافی وسائل فراہم کئے اوربلوچستان کیلئے 100فیصد اضافہ کیا گیا، یہ کوئی احسان نہیں ہے اگر پنجاب ترقی کرتا ہے اور باقی نہیں تو یہ پاکستان کی ترقی نہیں ، حکومت کا ایمان ہے کہ چاروں صوبے ترقی کریں گے تو پاکستان ترقی کرے گا،بلوچستان کی 850کلومیٹر خونی سڑک کیلئے 400 ارب روپے مختص کئے ، بلوچستان سے ایک پائی نہیں مانگی ،صوبے کے کسانوں کیلئے سولر پینلز کی فراہمی کیلئے 75ارب روپے کے منصوبے میں سے 50ارب روپے وفاق نے دیئے جن سے آج ٹیوب ویلز چل رہے ہیں، آزاد کشمیر، گلگت بلستستان میں دانش سکولوں کا جال بچھایا جارہا ہے،طلباء کو میرٹ پر لیپ ٹاپس اور وظائف دیئے جارہے ہیں جس کیلئے فنڈ قائم کیا گیا ہے ، لاکھوں طلبہ و طالبات ان سے استفادہ کرکے تعلیمی میدان میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑھ رہے ہیں ، ایک ہزار زرعی گریجوایٹس کو زراعت کی اعلیٰ تعلیم اور تربیت کیلئے چین کی اعلیٰ یونیورسٹیوں اوراداروں میں بھجوایا جن میں آزاد کشمیرا ور گلگت بلتستان سمیت چاروں صوبوں کے گریجوایٹس شامل ہیں، یہ تربیت یافتہ افراد زرعی اجناس کی پیداوار بڑھانے اور زرعی انقلاب برپا کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ وزیراعظم نے یاد دلایا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے 1947 میں پاکستان کے حق میں ووٹ دیا اور قائد اعظم کی ولولہ انگیز قیادت کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوئے،1971 کی جنگ میں رضا کارانہ طور پر افغانستان کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ بند کردی ، اللہ تعالیٰ نے خیبرپختونخوا کو معدنیا ت کی دولت سے نواز ا ہے ، یہ وسائل خیبرپختونخوا اورپاکستان کے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے خرچ ہونے چاہئیں تھے لیکن باقی صوبوں سے خیبرپختونخوا کی د س سالہ کارکردگی کا موازنہ کریں تو دددھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا، این ایف سی ایوارڈ میں چاروں صوبوں کووسائل ملتے ہیں ، کسی نے فائدہ اٹھا کر ان سے بھرپور ترقی کی لیکن خیبرپختونخوا میں جو ترقی ہونی چاہئے تھی وہ نظر نہیں آتی، اپنے گریبان میں جھانک کر اس کا جواب تلاش کرنا ہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ 6 مئی کو بھارت نے پاکستان پر جارحیت کا ارتکاب کرتے ہوئے 53 بے گناہ پاکستانیوں کو شہید کیا تو پاکستان نے سخت جوابی کارروائی کی اور دشمن کے 7 لڑاکا طیارے مار گرائے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں دشمن کو وہ سبق سکھایا جس کی حالیہ تاریخ میں مثال نہیں ملتی اور دشمن کو ہمیشہ یہ سبق یاد رہے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں فتح کے بعد گرین پاسپورٹ کو اب دنیا میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے،ملک میں معاشی استحکام آگیا ہے اب پائیدار ترقی کیلئے اقدامات کررہے ہیں ، وہ وقت دور نہیں جب محنت، امانت ، دیانت اور ٹیم ورک کے ذریعے پاکستان کو اقوام عالم میں اس کا کھویا ہوا مقام دلائیں گے۔ا فغانستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان ہمسایہ ملک ہے اور ہم ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں ، افغانستان کی ماضی اورحال کی حکومتوں نے ہماری میزبانی کی قدر نہیں کی ، بھائی چارے کے جواب میں بھائی چارے کا مظاہرہ نہیں ہوا اورجس طرح افغانستان نے جواب دیا وہ قابل افسوس ہے، افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی ہورہی ہے ، دوحہ اور چین میں افغان عبوری حکومت کے ساتھ بات چیت ہوئی، ان پر ٹی ٹی پی ، بی ایل اے سمیت بھارت کی آشیر باد سے کام کرنے والی پراکسیز کی کارروائیاں روکنے پر زور دیا لیکن انہوں نے کوئی مثبت جواب نہیں دیا اور ہماری ایک نہیں مانی ، پھر ان کو سبق سکھایا، انہوں نے ہمیں مجبور کیا کہ ٹرانزٹ ٹریڈ بند کریں ، ہم نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ادویات اور ضروری سامان نہیں روکا، اب افغان عبوری حکومت پر ہے کہ وہ پرامن ہمسائے کے طور پر رہنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ وفاق اور خیبرپختونخوا میں سرد جنگ کا تاثر درست نہیں ، میں نے سہیل آفریدی کو وزیر اعلیٰ بننے کے فوری بعد فون کرکے مبارکباد دی اور ان کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا لیکن انہوں نے مثبت جواب نہیں دیا ،چترال میں دانش سکول کا سنگ بنیادرکھنے کے موقع پر میں نے انہیں پھر مل بیٹھ کر بات کرنے کی دعوت دی لیکن بدقسمتی سے جھوٹ اورپراپیگنڈے کی بنیاد پر نوجوانوں کے ذہنوں میں زہر گھولا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا سمیت چاروں صوبوں کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کررہے ہیں ، اس کیلئے مختلف پروگرام شروع کئے گئے ہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے بتایا کہ چند روز قبل وزیراعظم صحت پروگرام کا دوبارہ اجراء کیا گیا ہے، یہ پروگرام 2016میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے شروع کیا تھا، اس پروگرام کے تحت وفاقی دارالحکومت ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیرکے عوام کے مفت علاج کے لئے 40 ارب روپے فراہم کئے جائیں گے۔
افغان مہاجرین کو پناہ دینا تاریخی غلطی تھی ،وزیراعظم
