تحریر۔فاروق فیصل خان
وفاقی دارالحکومت کی مخصوص بیٹھکوں میں یہ کہا جا رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اس وقت تین متوازی تحریکوں اور ان کے قائدین سے پریشان ہے۔
ایک طرف پی ٹی ایم اور اس کا پرجوش رہنما منظور پشتین،
دوسری جانب بی ایل اے اور مہرانگ بلوچ کی مزاحمتی آواز،
اور تیسری سمت پی ٹی آئی جس کے محور میں اب بھی عمران خان کھڑے ہیں۔
یہ تینوں تحریکیں بظاہر مختلف سمتوں میں ہیں، مگر طاقت کے مراکز کے لیے ایک ہی مشترکہ چیلنج رکھتی ہیں — بیانیے کی خودمختاری۔ یہ وہ چیز ہے جو ایوانِ اقتدار کو سب سے زیادہ چبھتی ہے۔اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ سختی کے ساتھ ساتھ تحریکوں کو ہائی جیک کرنے کا فن بھی جانتی ہے۔وہ خاموشی سے اپنے لوگ ان تحریکوں میں شامل کرتی ہےاور پھر “اصلاح” کے نام پر بیانیہ بدل دیتی ہے۔اب یہی پرانا ہنر نئے نام سے سامنے آ رہا ہے — آپریشن عزمِ وطن۔
،اس آپریشن کا مقصد قومی ہم آہنگی بتایا جا رہا ہے
بند کمروں سے باہر آنے والی ہوائیں سرگوشیاں کر رہی ہیں کہ ہدف تینوں مزاحمتی بیانیوں کو ایک “قومی سوچ” کے خول میں بند کرنا ہے، اور اس منصوبے کے چہرۂ عام کے طور پر ابھر رہے ہیں سابق سینیٹر مشتاق احمد خان۔
مشتاق احمد خان مذہبی مگر روائتی سیاستدان نہیں۔مذہبی سیاست سے وابستہ سیاستدان عمومآ علاقائی اور لسانی تحریکوں سے الگ رہتے ہیں لیکن مشتاق احمد خان کو کچھ عرصہ سے علاقائی اور لسانی تحریکوں میں زیادہ کشش نظر ا ریی ہے۔ان کی یہی شبیہہ انہیں طاقت کے کھیل میں ایک قابلِ قبول سویلین چہرہ بنا دیتی ہے۔
طاقتور حلقوں کے قریبی بتا رہے ہیں ،“عزمِ وطن” کے تحت نوجوانوں کو دوبارہ قومی دھارے میں لانے، پی ٹی آئی کے کارکنوں کو “سمجھانے”،پی ٹی ایم کے نوجوانوں کو “قائل کرنے”،اور بلوچ حلقوں کو “ری-اینگیج” کرنے کی حکمتِ عملی تیار کی گئ ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ایک ہی سیاسی بیانیہ تین مختلف تحریکوں کے لیے مؤثر ثابت ہو سکتا ہے؟
کیا مشتاق احمد خان واقعی عوامی بیانیے کو ریاستی لائن کے ساتھ ملا پائیں گے؟
یا یہ بھی ایک نیا “پراجیکٹ ری-انٹیگریشن” بن کر چند ماہ بعد بند ہو جائے گا۔
ایک بال، تین وکٹیں،،، آپریشن “عزمِ وطن” کی بساط
