غزہ امن بورڈ میں پاکستان کی شمولیت،اپوزیشن نے مخالفت کر دی

اسلام آباد(پی این ایچ)اپوزیشن نے غزہ امن بورڈ میں پاکستان کی شمولیت کی مخالفت کرتے ہوئے امن بورڈ معائدے کی شرائط پبلک کرنے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کردیا۔سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ ہماری پالیسیاں عالمی دبا کے تحت بنتی ہیں، بانی پاکستان نے اسرائیل کے حوالے سے جو پالیسی 1940کی قرارداد میں دی، ہم کیوں اس پر بات نہیں کرتے، قائد اعظم نے اسرائیل کو ناجائز بچہ قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ آج کے حکمران کیا قائد اعظم کی اسرائیل پالیسی کی سوچ بھی رکھتے ہیں؟ بانی پاکستان کے نام پر روٹیاں ٹکڑے کھانے والے کیا قائد اعظم کی اسرائیل کی پالیسی کے نزدیک سے بھی گزرتے ہیں، قاتلوں کے ہاتھوں امن کی امید اپنے آپ کو بیوقوف بنانے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایوان اگرچہ عوام کا منتخب کردہ نہیں، پھر بھی یہ ایوان ہے تو سہی، بتایا جائے ایوان تو دور کی بات کیا کابینہ کو بھی اعتماد لیا گیا، ذوالفقار علی بھٹو اقوام متحدہ جارہے تھے تواس ایوان کا بھرپور اعتماد لے کر گئے، فلسطین جیسے ایمانی مسئلے پر قوم کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسڑ گوہر نے کہا کہ فلسطین اور غزہ ہمارے لیے بہت اہم ہے، فلسطین پر ہمارا مقف رہا ہے کہ ہر وہ حل ہمیں قبول ہوگا جو مسلم دنیا کو قبول ہوگا۔انہوں نے کہا کہ غزہ میں ایک لاکھ کے قریب لوگ شہید ہوئے، غزہ میں لاکھوں لوگ زخمی ہوئے ہیں، اب بورڈ آف پیس کا ایشو سامنے آیا ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بغیر سوچے سمجھے اس کو قبول کر لیا، گزشتہ روز ایک پریس ریلیز آئی جس میں اس پیس آف بورڈ کو قبول کرنے کا بتایا گیا، ابھی تک پارلیمان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ہمیں بتائیں کہ بورڈ آف پیس کو کن شرائط پر قبول کیا ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے ہماری فورسز جائیں گی۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کی باڈی نہیں ہے یہ ادارہ علیحدہ سے تشکیل پا رہا ہے اقوام متحدہ کے تحت ہوتا تو حکومت خود فیصلہ کر سکتی تھی اس معاملے پر پہلے ایوان میں قرارداد لانا ضروری ہے۔