نیویارک (پی این ایچ)پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ وہ ایران میں صورتحال کی جلد معمول پر واپسی کا خواہاں ہے ، اقوامِ متحدہ کا چارٹر اور بین الاقوامی قانون کسی بھی ریاست کے اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت کی اجازت نہیں دیتا۔اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقوامِ متحدہ کا چارٹر کسی بھی ریاست کی علاقائی سالمیت یا سیاسی خودمختاری کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی کی ممانعت کرتا ہے۔ا نہوں نے واضح کیا کہ ریاستوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے اصولوں کے منافی ہے۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان گزشتہ چند دنوں میں ایران اور خطے میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی امن و استحکام کو لاحق نئے خطرات باعثِ تشویش ہیں۔ انہوں نے ایران کو پاکستان کا برادر ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک مستحکم اور پْرامن ایران نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور دنیا کے مفاد میں ہے، اور پاکستان کو ایرانی عوام اور قیادت کی دانشمندی پر مکمل اعتماد ہے۔انہوںنے کہاکہ تمام تنازعات کا حل طاقت کے بجائے مذاکرات اور بین الاقوامی قانون کے مطابق پْرامن ذرائع سے ہونا چاہیے کیونکہ یکطرفہ اقدامات اور تشدد بحران کو مزید گہرا کرتے ہیں۔پاکستانی مندوب نے اس امید کااظہار کیا کہ ایران میں حالات جلد معمول پر آئیں گے، اندرونی خلفشار اور بیرونی دباؤ کا خاتمہ ہوگا اور تمام فریقین باہمی احترام اور افہام و تفہیم کی بنیاد پر مذاکرات کی میز پر واپس آئیں گے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا یہ اجلاس امریکا کی درخواست پر بلایا گیا تھا جس میں ایران کی موجودہ صورتحال پر بحث کی گئی۔ امریکی مندوب نے ایرانی مظاہرین کے خلاف کارروائیوں پر تنقید کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کا اعلان کیا۔اجلاس کے آغاز میں اقوامِ متحدہ کی اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل مارتھا پوبی نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور تشویشناک ہے۔ انہوں نے ممکنہ فوجی کارروائیوں سے متعلق بیانات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے اس بات پر زور دیا کہ ایران سے متعلق تمام مسائل، بشمول جوہری پروگرام کا اور مظاہرے، سفارتکاری اور مکالمے کے ذریعے حل کیے جائیں اور تمام فریق زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔دوسری جانب روس اور چین نے بھی ایران کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکیوں کی مخالفت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیا، جبکہ ایرانی مندوب نے امریکا پر اندرونی بدامنی کو ہوا دینے اور حقائق مسخ کرنے کا الزام عائد کیا۔واضح رہے کہ ایران میں 28 دسمبر کو معاشی مشکلات، مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہوا تھا، جس کے بعد ایران کی صورتحال اور ایرانی قیادت کو امریکی دھمکیوں نے عالمی توجہ حاصل کر لی۔
ایران میں صورتحال کی جلد معمول پر واپسی کے خواہاں ہیں، پاکستان
