ایشیا کی معروف شوگرکین اسٹیٹ بدین میں زرعی بحران شدت اختیار کرگیا

پنگریو(پی این ایچ)ایشیا کی معروف شوگرکین اسٹیٹ بدین میں زرعی بحران شدت اختیار کرگیا،پانی کی قلت، حکومتی پالیسیوں کے اثرات پانچ میں سے دو شوگر ملیں مستقل بند، گنے کی پیداوار کم، کاشتکار معاشی بدحالی کا شکار۔براعظم ایشیا میں شوگرکین اسٹیٹ کے طور پر شہرت رکھنے والا اور چینی کی پیداوار کے لحاظ سے ملک میں سرفہرست سمجھا جانے والا ضلع بدین شدید زرعی بحران کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ زرعی پانی کی مسلسل کمی اور حکومتی پالیسیوں کے منفی اثرات کے باعث ضلع میں قائم پانچ میں سے دو شوگر ملیں مکمل طورپر بند ہو چکی ہیں جبکہ گنے کی پیداوار میں نمایاں کمی نے کاشتکاروں کو شدید مالی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔کاشتکاروں کے مطابق نہری پانی کی غیر منصفانہ تقسیم اور پانی کی طویل قلت کے باعث گنے کی فصل متاثر ہوئی ہے مناسب آبپاشی نہ ہونے سے فصل کی نشوونما رک گئی اور فی ایکڑ پیداوار کم ہو گئی۔ اس صورتحال نے شوگر انڈسٹری کو بھی براہ راست متاثر کیا ہے۔گنے کی کم دستیابی کے باعث دو بڑی شوگر ملیں مستقل بند ہوچکی ہیں جس سے سینکڑوں مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں۔ گنے کی کٹائی، ٹرانسپورٹ اور ملوں سے منسلک دیگر کاروبار بھی ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں، جس سے مقامی معیشت شدید دبا کا شکار ہیکاشتکاروں نے بتایا کہ انہوں نے بیج، کھاد اور زرعی ادویات مہنگے داموں خرید کر فصل کاشت کی مگر پانی نہ ملنے سے پیداوار آدھی رہ گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ شوگر ملوں کی بندش کے باعث گنا فروخت کرنے میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں جس سے نقدی کا بحران پیدا ہو گیا ہے اور آئندہ فصل کی تیاری خطرے میں پڑ گئی ہے۔آبادگار تنظیموں اور زرعی حلقوں نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانی کی منصفانہ تقسیم یقینی نہ بنانا اور زرعی شعبے کو نظر انداز کرنا موجودہ بحران کی بنیادی وجہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نہری نظام کی فوری مرمت، پانی کی شفاف تقسیم، بند شوگر ملوں کی بحالی اور کاشتکاروں کے لیے مالی ریلیف پیکیج کا اعلان کیا جائے۔زرعی ماہرین کے مطابق اگر جدید آبپاشی طریقوں، ڈرپ اریگیشن اور لیزر لیولنگ کو فروغ دیا جائے تو پانی کی بچت کے ساتھ گنے کی پیداوار میں اضافہ ممکن ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بدین جیسے زرعی اہمیت کے حامل ضلع کو نظر انداز کرنا ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ کاشتکاروں نے کہا ہے کہ گنے کی بھرپور پیداوار اور شوگر ملوں کی سرگرمیوں کی وجہ سے معاشی طور پر متحرک رہنے والا ضلع بدین آج حکومتی توجہ کا منتظر ہے تاکہ اسے دوبارہ زرعی خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔