اسلام آباد /مری /گلگت/مظفر آباد /پشاور /کراچی (پی این ایچ)آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان اور مری سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور پہاڑوں پر شدید برف باری کے باعث موسم کی شدت میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ،سڑکوں کی بندش کے باعث خوراک اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہوگئی، گیس سلنڈر اور لکڑ ی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کر نا پڑا،شدید سردی کے باعث بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں گیس پریشر میں کمی، بجلی بند ہونے سے شہری پریشانی کا شکار دکھائی دیئے ،سندھ میں تفریحی مقام گورکھ ہل اسٹیشن پر موسم سرما کی پہلی برفباری سے سردی بڑھ گئی ،کراچی میں سردی کی لہر برقرار رہی ، درجہ حرارت سنگل ڈجٹ میں جانے کا امکان ہے ۔ تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان اور مری سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور پہاڑوں پر برف کا نیا سلسلہ شروع ہوا جو وقفے وقفے سے جاری رہا ،شدید برف باری کے باعث کئی علاقوں کے زمینی رابطے بھی منقطع ہوگئے اور معاملات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے۔علاقہ کے مکینوں نے بتایا کہ شدید برف باری کے باعث گیس کے سلنڈر اور لکڑی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر نے لگی ہیں اور دوکاندار من مانی قیمتیں لے رہے ہیں جس کے باعث ہمیں شدید مشکلات کا سامنا ہے ادھر محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بیشتر بالائی اور شمالی علاقوں میں مغربی ہواں کا طاقتور سسٹم داخل ہونے سے سردی کی شدت مزید بڑھ گئی۔بلوچستان کے علاقوں کوئٹہ ، زیارت ، کوژک ٹاپ ، کان مہترزئی ، خانوزئی ، شیلا باغ اور مسلم باغ میں برفباری کا سلسلہ پھر شروع ہواجو وقفے وقفے سے جاری رہا جس سے رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں۔بلوچستان کے پاک افغان سرحدی علاقوں برف باری سے اہم شاہراہیں برف سے ڈھک گئی ہیں،قلات میں تین انچ تک برف پڑچکی ہے، لکپاس اور دیگر قومی شاہراہوں سے برف ہٹانے کے لیے ہیوی مشینری کا استعمال اورنمک پاشی کی جا رہی ہے۔ادھر استور میں گزشتہ رات سے پہاڑوں اوربالائی علاقوں میں برفباری کا سلسلہ وقفے وقفے کے ساتھ جاری رہی، چلاس میں بابوسر ٹاپ،نانگا پربت،بھٹوگاہ ٹاپ،داریل اورتانگیر کے پہاڑوں پر برف باری ہوئی،غذر کے بالائی علاقوں میں شدید برفباری اور میدانی علاقوں بارش کے بعد نظام زندگی مفلوج ہوگیا۔ دوسری جانب وادی نیلم میں برف باری کے باعث بندشاہراہ نیلم کو چلہانہ سے کیل تک ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیاادھر شدید سردی کے باعث بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں گیس پریشر میں کمی، بجلی بند ہونے سے شہری پریشانی کا شکار دکھائی دیئے جبکہ بلوچستان شدید سردی کی لپیٹ میں، زیارت میں پارہ منفی 9 ڈگری تک گر گیادوسری جانب کوئٹہ کے شہری سخت سردی میں بجلی کی بندش اور گیس پریشر میں کمی کی شکایات سامنے آئیں ۔ دریں اثناء مری میں سیاحوں کی بڑی تعداد کی آمد کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے سیاحوں کا داخلہ محدود کردیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ملکہ کوہسار مری اور گلیات میں سنو فال سے سیاح لطف اندوز ہوتے، مری میں برفباری کے باعث مال روڈ، جھیکا گلی اور نتھیا گلی سیاحوں کیلئے بند کر دی گئی، صرف بکنگ والوں کو اجازت ملی دوسری جانب برفباری کے باعث متعدد رابطہ شاہراہیں بلاک ہوگئیں، گریس ویلی اور شونٹر ویلی کی سڑک بھی بند ہوگئی، نانگا پربت اور بابوسر ٹاپ پر 10 فٹ سے زیادہ برف پڑ چکی، جس کے باعت معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوگئے، لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے، باغ میں برفانی تودہ گرنے سے ایک شہری چل بسا، گاڑی کو نقصان پہنچا، لیپہ اور نیلم ویلی میں لینڈ سلائیڈنگ سے 13 گھر مکمل تباہ ہوگئے، 28 جزوی متاثر ہوئے۔برفباری سے بند وادی لیپہ شاہراہ بحال کر دی گئی، گلیات میں چار روز گزرنے کے باوجود بیشتر علاقوں میں بجلی معطل ہوگئی، رابطہ سڑکوں کی بھی مکمل بحالی نہ ہو سکی۔سڑکوں کی بندش کے باعث خوراک اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہوگئی، ناران، کاغان، کالام اور چترال میں سڑکیں بند ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا، مالم جبہ میں برفباری نے سیاحوں کو اپنی اور کھینچ لیا ادھر لاہور سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں بادل برس پڑے، ٹھنڈ کی شدت مزید بڑھ گئی، بالائی علاقوں میں برفباری سے درجہ حرارت نقطہ انجماد سے گر گیا، لہہ میں منفی 12، زیارت میں پارا منفی 8 ریکارڈ کیا گیا، استور، گوپس، پارا چنار میں درجہ حرارت منفی 7 تک گر گیا۔مالم جبہ، قلات، راولا کوٹ میں پارا منفی 5 ریکارڈ کیا گیا، کراچی میں کم سے کم درجہ حرارت 11، لاہور میں 7 ریکارڈ کیا گیا۔دوسری جانب خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور بلوچستان کے پہاڑی علاقوں میں ممکنہ لینڈسلائیڈنگ بارے پیشگی الرٹ کر دیا گیا۔این ڈی ایم اے کے مطابق دیر، سوات، کالام، چترال، کوہستان، شانگلہ، ایبٹ آباد اور مانسہرہ میں لینڈسلائیڈنگ کا شدید خطرہ ہے، مری، گلیات، استور، ہنزہ، باغ، مظفرآباد اور گردونواح کے پہاڑی علاقوں میں بھی لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے، اس کے علاوہ کوئٹہ، زیارت، قلعہ عبداللہ، نوشکی، قلات، مستونگ، پنجگور اور خضدار میں بھی لینڈسلائیڈنگ متوقع ہے۔این ڈی ایم اے نے عوام کو برفباری اور بارش کے دوران غیرضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی ہے ادھر وادی تیراہ میں برف باری سے متاثرہ 2 ہزار 400 افراد کو ریسکیو کرلیا گیا ہے ساتھ ہی مرکزی شاہراہ بھی بحال کردی گئی ہے۔دریں اثناء سندھ میں تفریحی مقام گورکھ ہل اسٹیشن پر موسم سرما کی پہلی برفباری ہوئی ہے جس سے سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہوگیا۔ضلع دادو میں کیرتھر کے پہاڑی دامن میں سندھ اور بلوچستان کی سرحدی پٹی پر واقع گورکھ ہل اسٹیشن پر برفباری کے بعد ماحوال سحر انگیز ہوگیا۔گورکھ ہل اسٹیشن پر برفباری کے بعد درجہ حرارت منفی 2 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا۔یہ وادی مہران کا واحد بلند ترین تفریحی، سرد ترین اور پرفضا مقام ہے جہاں موسم سرما میں کچھ سالوں بعد برفباری ہوتی ہے ادھر کراچی میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم خشک اور سرد رہنے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق شہر کا کم سے کم درجہ حرارت 9 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کا امکان ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 23 ڈگری سینٹی گریڈ تک جاسکتا ہے۔محکمہ موسمیات نے بتایا کہ شہر کا کم سے کم درجہ حرارت 12.8ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا جبکہ نمی کا تناسب 47فیصد رہا۔اس کے علاوہ شہر میں مشرق سے ہوائیں 8کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی رہیں
بارش اور پہاڑوں پر برف باری ، رابط سڑکیں بند ، اشیاء ضروریہ کی قلت
