حکومت مذاکرات میں سنجیدہ ،یہ چار پانچ زبانیں بولتے ہیں ،کس پر اعتبار کریں، خواجہ آصف

اسلام آباد (پی این ایچ)وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ حکومت پی ٹی آئی سے مذاکرات میں سنجیدہ ہے مگر یہ چار پانچ زبانیں بولتے ہیں ہم کس پر اعتبار کریں، باقاعدہ ایک حکمت عملی کے تحت باہر سے لوگ بیٹھ کر لوگوں کو گالیاں دے رہے ہیں،تحریک انصاف کی بدنیتی ختم نہیں ہو رہی، یہ تاش کی بازی لگی ہوئی ہے اور سارے مل کر کھیل رہے ہیں،مجھے بتائیں ایک اکثریتی پارٹی نے اپنا لیڈر آف اپوزیشن کیوں نہیں بنایا؟ ،پاکستان کے استحکام کیلئے اب فیصلے کرنا ہوں گے،ملک اور نظام کی بقا کے لیے لوکل گورنمنٹ کو مضبوط کرنا ہوگا،ایسا نظامِ تعلیم ہونا چاہیے کہ وفاق سمیت صوبوں کو بھی نئی نسل پہچانے، یکساں نظامِ تعلیم ایک قوم بناتا ہے ، بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا،اگر یہی صورتحال رہی تو آخر میں وزارت دفاع کی فائر بریگیڈ ہی آگ بجھانے کیلئے آئے گی۔ منگل کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہاکہ ایوب خان، ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے ادوار میں لوکل باڈی کے انتخابات کرائے گئے، تاہم ہم لوگ لوکل گورنمنٹ کے انتخابات نہیں کراتے اور اگر الیکشن شیڈول بھی آ جائے تو مختلف بہانے کیے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک اور نظام کی بقا کے لیے لوکل گورنمنٹ کو مضبوط کرنا ہوگا۔انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ چین کے موجودہ صدر بھی ایک سیاسی عمل کے ذریعے ابھر کر سامنے آئے جبکہ لیڈرشپ اسی طرح پیدا ہوتی ہے اور ایسے ہی عمل سے آگے بڑھتی ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ کراچی میں آگ لگنے کا واقعہ ہمارے نظام کی تباہی کی نشانی ہے،۔ انہوںنے کہاکہ ملک میں عوام کو مضبوط کرنے کے لیے لوکل گورنمنٹ کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے، ملک میں ایک جیسا نظامِ تعلیم اور مضبوط لوکل گورنمنٹ سسٹم ہونا چاہیے۔ انہوں نے خواہش کا اظہار کیا کہ ایک ایسا مضبوط لوکل گورنمنٹ نظام قائم ہو تاکہ ملک آگے بڑھ سکے۔انہوںنے کہاکہ ایسا نظامِ تعلیم ہونا چاہیے کہ وفاق سمیت صوبوں کو بھی نئی نسل پہچانے، یکساں نظامِ تعلیم ایک قوم بناتا ہے لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ کراچی میں گل پلازہ آتشزدگی اور آئے روز ڈمپر حادثات میں انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں،کراچی اتنا بڑا شہر ہوگیا ہے کہ اس کا انتظام سنبھالناایک مشکل کام ہے،عوام کو بااختیار بنانے کے لئے مقامی حکومتوں کا نظام لانا پڑے گا۔ انہوں نے کہاکہ 28ویں ترمیم میں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کا موثر سسٹم تجویز کیا ہوا تھا،ایک اتفاق رائے تھا کہ مقامی حکومتوں کا نظام جو 18ویں ترمیم میں تجویز ہوا تھا اس پر عمل کریں،ہمیں وہ ترمیم بھی واپس لینا پڑی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم چاہتے تھے کہ گوادر سے گلگت اور پورے ملک میں نئی نسل پاکستانیت کے ساتھ ساتھ صوبائیت کو بھی پہنچانے ، اس حوالہ سے نصاب ایک قومی شناخت دیتا ہے،ہمیں اس ترمیم کو بھی ہمیں ڈراپ کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے واقعات اس بات کے متقاضی ہیں کہ پورے ملک میں مقامی حکومتوں کا فعال نظام ہونا چاہیے تا کہ اختیارات ضلع، تحصیل،یونین کونسل کی سطح تک منتقل ہوسکیں،جب تک گلی محلے میں نمائند گی نہیں ہوگی تو نہ فائر بریگیڈ ہو گا نہ کوئی مسئلہ حل ہوگا۔وزیر دفاع نے کہا کہ اب ایسا نظام بننا چاہیے کہ صوبے سے تحصیل اور وارڈ کی سطح تک اختیارات منتقل ہوں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہی صورتحال رہی تو آخر میں وزارت دفاع کی فائر بریگیڈ ہی آگ بجھانے کیلئے آئے گی۔بعد ازاں پارلیمنٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت تحریک انصاف سے مذاکرات میں سنجیدہ ہے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ پی ٹی آئی مذاکرات میں سنجیدہ ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی چار پانچ زبانیں بولتی ہے، پی ٹی آئی والے فرینچ میں بات کرتے ہیں، انگلش،پنجابی اور اردو میں بات کرتے ہیں، ہم ان کی کون سی زبان سمجھیں، ، ہمیں بتائیں ہم ان کی کون سی زبان پر اعتبار کریں، خیبرپختونخواحکومت الگ اوراسمبلی میں بیٹھنیوالیالگ زبان بول رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جولوگ باہربیٹھ کر گالم گلوچ کرتے ہیں سب سے پہلے ان کی زبان بندی ضروری ہے، باہربیٹھ کر جولوگ پاکستان کیخلاف بولتے ہیں یہ ان کی مرضی سے بول رہے ہیں، باقاعدہ ایک حکمت عملی کے تحت باہر سے لوگ بیٹھ کر لوگوں کو گالیاں دے رہے ہیں۔وزیر دفاع نے کہاکہ پی ٹی آئی بیک ٹریک کرنے کے لیے اور دو نمبری کرنے کے لیے اپنی اسپیس رکھنا چاہتی ہے، یہ صرف پی ٹی آئی کی نیت کا فتور ہے، پی ٹی آئی کی نیت ہو تو مذاکرات بھی ہوسکتے ہیں اور ان کا زرلٹ بھی نکل سکتاہے، تحریک انصاف کی بدنیتی ختم نہیں ہو رہی، یہ تاش کی بازی لگی ہوئی ہے اور سارے مل کر کھیل رہے ہیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ مجھے یہ بتائیں ایک اکثریتی پارٹی نے اپنا لیڈر آف اپوزیشن کیوں نہیں بنایا؟ محمودخان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنایاگیا ہے وہ بھائی ہے اپنا اور میں محمود اچکزئی کا بڑا احترام کرتا ہوں، میرا ان کی سیاست سے اختلاف ضرور ہوسکتا ہے تاہم میرا ان سے بڑا برادرانہ تعلق ہے، بہت اچھی بات ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈر بنے ہیں میں ان کو ویلکم کرتا ہوں۔انہوںنے کہاکہ نواز شریف اور شہباز شریف مجھے حق دیتے ہیں کہ میں ان سے اختلاف کرسکتا ہوں حالانکہ کوئی وزیراعظم اپنے وزرا کو یا ورکرز کو اتنی اسپیس نہیں دیتاجتنی شہبازشریف دیتے ہیں، پاکستان کی سیاست میں یہ لوگ ایک رول ماڈل ہیں۔