خیبرپختونخوا، کوہستان کرپشن سکینڈل کے10ملزمان نے سرنڈر کردیا

پشاور (پی این ایچ)کوہستان مالیاتی سکینڈل کے10ملزمان نے خود کو سرنڈر کر دیا ،کروڑوں روپے مالیت کے اثاثوں سے دستبرداری کی درخواست احتساب عدالت میں جمع کرادی۔جمعرات کو احتساب عدالت کے انتظامی جج محمد ظفرخان نے کوہستان مالیاتی اسکینڈل کیس کی سماعت کی اور اس موقع پر نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل محمد علی، پراسیکیوٹر مانک شاہ اور نیب کے انویسٹی گیشن افسر محمد عنایت اللہ بھی پیش ہوئے۔سماعت کے دوران ملزمان نے عدالت میں درخواست دائر کی اور مقف اختیار کیا کہ نیب نے کوہستان کرپشن اسکینڈل میں ان کی مختلف ملکیتی اثاثے قبضے میں لئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ ان اثاثوں سے دستبردا ر ہونا چاہتے ہیں کیونکہ مرکزی ملزمان نے یہ جائیداد اور اثاثے ان کے نام پر لیے ہیں اور وہ بینامی دار ہیں۔ملزمان نے درخواست دی ہے کہ ان کا ان جائیدادوں اور اثاثوں سے کوئی تعلق نہیں اور اگر نیب یہ تحویل میں لینا چاہتا ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔اس موقع پر ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل محمد علی نے عدالت کو بتایا کہ اگر یہ ملزمان ان اثاثوں سے دستبردار ہوتے ہیں تو نیب ان کے خلاف مزید کوئی کارروائی نہیں کرے گی، ان اثاثوں میں پلاٹس اور قیمتی گاڑیاں شامل ہیں۔ڈپٹی پراسیکیوٹر نے بتایا کہ مرکزی ملزمان نے ان کے نام پر یہ جائیدادیں اور اثاثے خریدی ہیں اور یہ تمام بینامی دار ہیں۔ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب محمد علی نے بتایا کہ سرنڈر کرنے والے ملزمان کوہستان اسکینڈل میں بے نامی دار ہیں اور وہ 23کروڑ 77لاکھ 78ہزار 600روپے کے اثاثے واپس کرنا چاہتے ہیں۔عدالت نے تمام ملزمان کے بیانات قلم بند کیے اور درخواست پر تحریری فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔