ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ عوام بار بار نمائندوں کے انتخاب میں غلطیاں دہراتے ہیں۔ کبھی کھوکھلے نعروں پر، کبھی وقتی مفاد پر، کبھی ذات برادری اور کبھی علاقائی تعصب کی بنیاد پر ووٹ دیے جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ایسے افراد ایوانوں میں پہنچتے ہیں جو نہ وژن رکھتے ہیں، نہ کردار اور نہ ہی کارکردگی۔ یہی وجہ ہے کہ ادارے کرپشن، اقربا پروری اور رشوت کی نذر ہو چکے ہیں اور جمہوریت اپنی اصل ساکھ کھو بیٹھی ہے۔
عوام اور نمائندوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج بھی جمہوریت کے لیے خطرہ ہے۔ عوام نمائندوں کو عوامی ترجمان کے بجائے آقا سمجھتے ہیں اور نمائندے خود کو جواب دہ نہیں گردانتے۔ یہ سوچ بدلنی ہوگی۔ نمائندے عوام کے ترجمان ہیں اور عوام کو بھی اپنے حقوق و فرائض دونوں کا شعور ہونا چاہیے۔
اب وقت آگیا ہے کہ ووٹ دینے کا معیار قومی مفاد، کارکردگی، ایمانداری اور کردار ہو۔ غیر تعلیم یافتہ اور بے خبر افراد کو قانون ساز اداروں میں بھیجنا قوم کے ساتھ ظلم ہے۔ مقامی کونسل سے لے کر اسمبلی تک نمائندہ صرف میرٹ پر منتخب ہونا چاہیے۔
آج سیاست اور حکومت میں جو زوال آیا ہے وہ کسی ایک دن یا ایک فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ عوام کے مسلسل غلط انتخاب کا شاخسانہ ہے۔ سیاست دان اپنی حقیقت میں بے نقاب ہو چکے ہیں، مگر المیہ یہ ہے کہ عوام بھی زوال کے ایک دور سے گزرنے کے باوجود اپنی روش نہیں بدلتے۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو آنے والا وقت مزید زوال پذیر ہوگا۔ اب وقت ہے کہ عوام ہوش کےشعوری بیداری کا ثبوت دیں اور ایسے فیصلے کریں جو قوم کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائیں، ورنہ تاریخ ایک بار پھر خود کو دہرا دے گی۔
“اگر فصل خوشحالی کی چاہیے تو بیج درست انتخاب کا بونا ہوگا!”
ایڈووکیٹ نبیلہ ارشاد
چئیرپرسن جموں کشمیر ڈیموکریٹک پارٹی
