لاہور (پی این ایچ) تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ ہمارا کسی سے جھگڑا نہیں مگر ظلم کا نظام نہیں چل سکتا ،نوازشریف صاحب آپ سب جانتے ہوئے بھی غلط کر رہے ہیں، معذرت کے ساتھ ہماری اسٹبلشمنٹ کی تربیت ہی غلط ہے، آپ کو اگر شوق ہے تو وہ کام چھوڑ کر آئیں ڈنڈے دھونس سے کام نہیں چلے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے تحریک تحفظ آئین پاکستان کی عوامی رابط مہم کے سلسلہ میں دورہ لاہور کے دوسرے روز تحریک تحفظ آئین پاکستان کے نائب صدر علامہ ناصر عباس اور دیگر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیاسی رہنمائوں اور پی ٹی آئی کارکنان کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ نوازشریف میرے دوست ہیں لیکن آپ جانتے ہیں کہ آپ غلط کر رہے ہیںکیونکہ آپ الیکشن ہارے ہوئے ہیں ،آپ لوگ گھر میں اپنی بی بی جان، بیٹی جان اور بچوں کا کیسے سامنا کرتے ہیں، آپ جانتے ہیں کہ آپ الیکشن ہارے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عوام نے کمال کر دیا کہ تحریک انصاف جس کے پاس اپنی جماعت کا انتخابی نشان بھی نہیں تھا اس کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ووٹ دیا۔انہوں نے کہا کہ نہ شہباز شریف سے جھگڑا ہے اور نہ نواز شریف سے جھگڑا ہے، نہ ہی ہماری فوج اور یہاں کے ایجنسیوں سے کوئی جھگڑا ہے۔ دنیا جہاں کی افواج جو کر رہی ہیں آپ اسی فریم میں رہیں تو آپ ہمارے بھائی ہیں۔انہوں نے کہا کہ معذرت کے ساتھ ہماری اسٹبلشمنٹ کی تربیت ہی غلط ہے، آپ کو اگر شوق ہے تو آئیں وہ کام چھوڑ کر آئیں لیکن ڈنڈے دھونس سے کام نہیں چلے گا۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان میں 46فیصد لوگ غربت کی لکیر کے نیچے رہ رہے ہیں اور ایسا نہیں ہے کہ ملک میں وسائل نہیں ہیں۔انہو ں نے کہاکہ آئیں اجتماعی عقل و دانش سے اس ملک کے مسائل کا حل نکالیں، چاہے وکلاء ہوں، دانشور ہوں، کیمونسٹ ہوں جو بھی ہیں سب ملکر چلیں۔انہوں نے کہا کہ اس ملک کو چلانے کا اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ قرآن کریم کہتا ہے معاشرہ عدل کے بغیر چل ہی نہیں سکتا ہے، بے انصافی نفرتوں کو جنم دیتی ہے اور ہمیں بے انصافی کو ختم کرنا ہے۔ ظلم کا نظام نہیں چل سکتا، ظالم کے خلاف ہمارا ساتھ دیں اور اگر ساتھ نہیں دے سکتے تو دعا کریں۔سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کا کہنا تھا کہ ہم نے حلف لیا ہے ہم ملک کا دفاع کریں گے، ظالم کے خلاف آواز اٹھائیں گے اور یہ ہمارا فرض ہے، کوئی ملک فوج کے بغیر نہیں چل سکتا لیکن آپ ایک فریم میں رہیں کیونکہ آپ ہمارے بھائی ہیں۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے نائب صدر علامہ ناصر عباس نے کہا کہ ملک کو موجودہ سیاسی اور آئینی دلدل سے نکالنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا کیونکہ پاکستان مزید محاذ آرائی اور انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت جس تباہ کن صورتحال سے گزر رہا ہے، اس سے نکلنے کا واحد راستہ اجتماعی دانش اور مکالمہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی کے ساتھ ذاتی دشمنی نہیں، اختلافات ضرور ہیں مگر اختلافات کی بنیاد پر ملک کو مزید نقصان کی طرف نہیں دھکیلا جانا چاہیے۔انہوں نے واضح کیا کہ 5بڑوں کے بیٹھنے کی تجویز کو محدود دائرے میں نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ اس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق تمام سیاسی جماعتیں، مختلف مکاتب فکر کی قیادت، صوبائی نمائندے، اور آئینی اداروں سے وابستہ افراد بھی اس عمل کا حصہ ہوں تاکہ ملک کو موجودہ بحران سے نکالا جا سکے۔علامہ ناصر عباس نے پارلیمنٹ کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ ہی وہ فورم ہے جہاں کھل کر بحث ہونی چاہیے اور اجتماعی فیصلوں کے ذریعے پاکستان کو بحرانوں سے نکالنے کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف مخصوص مواقع پر پارلیمنٹ میں آنا اور پھر چلے جانا مسائل کا حل نہیں، مستقل اور سنجیدہ مکالمہ ضروری ہے۔تحریک تحفظ آئین پاکستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس تحریک کا مقصد تصادم نہیں بلکہ آئینی، قانونی اور پرامن جدوجہد کے ذریعے عوام کے حقوق کا تحفظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے اور نہ ہی چاہتے ہیں کہ خدا نخواستہ ملک مزید تباہی کی طرف جائے۔علامہ ناصر عباس نے اقتدار میں موجود قوتوں کو زیادہ ذمہ داری کا احساس دلاتے ہوئے کہا کہ اصل ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ برداشت، وسعتِ نظر اور شائستگی کے ساتھ سیاسی عمل کو آگے بڑھائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور لوگ خوف کے بغیر اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جب تک عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت نہیں دی جاتی، حکومت کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت نہیں ہوسکتی۔انہوں نے ٹی ٹی اے پی پر زور دیا کہ وہ اپنے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے عمران خان سے ملاقات کی اجازت کے لیے دبائو ڈالے، جن سے حالیہ ہفتوں میں کسی کو ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔انہوں نے کہا کہ عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت دیئے بغیر کوئی بات چیت یا مذاکرات شروع نہیں ہو سکتے۔ بیرسٹر علی ظفر نے ٹی ٹی اے پی کو لاہور میں پی ٹی آئی کے رہنمائوں اور کارکنوں کی جانب سے مکمل تعاون اور حمایت کی یقین دہانی بھی کرائی۔انہوں نے کہا کہ اس وقت سب سے اہم ترجیح پاکستان کی خودمختاری کا تحفظ ہے اور اسی تناظر میں عمران خان کی رہائی وقت کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایسا کوئی قدم نہیں اٹھا سکتی جو پاکستان کے مستقبل کو نقصان پہنچائے یا ملکی خودمختاری کے خلاف ہو۔بیرسٹر علی ظفر نے ٹی ٹی اے پی کی قیادت کا دورے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو یہاں پہنچنے میں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، میں کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں یہاں روزانہ یہی مشکلات برداشت کرنی پڑتی ہیں۔پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد سے تمام تر رکاوٹوں کے باوجود ہمارے ایم پی ایز اور ایم این ایز اپنے مشن پر پہنچے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پنجاب پولیس نے پی ٹی آئی کے 17رہنمائوں کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا اور ان میں موجود کیش بھی نکال لیا گیا۔معین ریاض قریشی نے کہا کہ ہم اس طرح کے ہتھکنڈے کئی سالوں سے دیکھتے آ رہے ہیں، پنجاب میں ہم اپنے وزن سے زیادہ جبر برداشت کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب اسمبلی میں 108ایم پی ایز موجود تھے مگر اسلم اقبال کو حلف اٹھانے کی اجازت نہیں دی گئی جبکہ 26ایم پی ایز کو تین ماہ کے لیے معطل کر دیا گیا۔اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عوام کے لیے تکالیف برداشت کر رہے ہیں، ہم اپنی تکلیف برداشت کر سکتے ہیں لیکن ہمارے ورکرز کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے وہ ناقابلِ برداشت ہے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ نادیہ کھرل کی گاڑی تھانے میں بند کر دی گئی، جس کے بعد وہ رات کی تاریکی میں ٹیکسی کے ذریعے لاہور پہنچیں۔ اسی طرح فروخ جاوید مون کو اچھرہ تھانے میں دو گھنٹے تک بٹھائے رکھا گیا۔معین ریاض قریشی نے کہا کہ 4اپریل سے اب تک جس عدالت میں بھی بلایا گیا ہم وہاں پیش ہوئے۔ آخر میں انہوں نے واضح کیا کہ جتنی مرضی فسطائیت کر لی جائے، ہم اپنی سیاسی مہم جاری رکھیں گے۔
ظلم کا نظام نہیں چل سکتا ،نوازشریف سب جانتے ہوئے غلط کر رہے ہیں’اچکزئی
