لاہور( پی این ایچ)پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملک کی قدیم ہاتھ سے بنے قالینوں کی برآمدی صنعت کو درپیش سنگین بحرانوں سے نکالنے کے لیے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہاہے کہ قیمتی زر مبادلہ کے حصول اور دیہی علاقوں میں ہزاروں افراد کو ان کی دہلیز پر روزگار فراہم کرنے والی صنعت کو اس وقت اپنی بقا ء کا سامنا ہے ، عالمی سطح پر اعلی دستکاری کی وجہ سے شناخت رکھنے والی پاکستان کی ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت متعدد مسائل کے باعث اپنی مکمل برآمدی صلاحیت سے محروم ہو رہی ہے جو شدید تشویش کا باعث ہے ۔پاکستان کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے قائمقام چیئرمین ریاض احمد اورایگزیکٹو باڈی نے وزیر اعظم شہباز شریف کو اپنے مطالبات میں اس امر کی نشاندہی کی کہ مختلف وجوہات کی وجہ سے اس صنعت کو روایتی ہنرمند وںکی شدید کمی کا سامنا ہے جو صدیوں پرانے روایتی فن کے مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ سرچارج اور ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کی معطلی خصوصاً 80/20 سکیم کے تحت دی جانے والی سبسڈی کا خاتمہ برآمد کنندگان کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہا ہے، یہ سبسڈی بین الاقوامی تجارتی نمائشوں میں شرکت کے لیے نہایت اہمیت کی حامل تھی جہاں سے عالمی خریداروں سے روابط اور برآمدی آرڈرز حاصل کیے جاتے ہیں۔قائمقام چیئرمین ریاض احمد اور ایگزیکٹو باڈی کے اراکین نے پاکستان انٹرنیشنل کارپٹ شو 2026 کے بروقت اعلان اور انعقاد کے لیے حکومتی فنڈز کی فوری منظوری اور اجرا ء کو بھی ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ میگا ایونٹ جو صوبائی دارالحکومت لاہور میں منعقد ہونا ہے پاکستان کے ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور یہی وہ واحد موثر پلیٹ فارم ہے جہاں پاکستان کے اعلی معیار کے ہاتھ سے بنے قالین عالمی خریداروں کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔ عالمی ایونٹ کی کامیاب منصوبہ بندی اور عالمی سطح پر موثر تشہیر کے لیے فنڈز کی بروقت منظوری اور اجرا ء ناگزیرہے۔قائمقام چیئرمین ریاض احمد نے کہا کہ پاکستان کے ہاتھ سے بنے قالین آج بھی امریکہ اور یورپی ممالک سمیت اہم عالمی منڈیوں میں بیحد مقبولیت رکھتے ہیں،حال ہی میں ترکیہ میں منعقدہ انٹرنیشنل کارپٹ ایکسپو اور جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں ہونے والی ہیم ٹیکسٹائل نمائش میں پاکستانی برآمد کنندگان نے اپنے اعلی معیار کے سٹالز کے ذریعے نمایاں کامیابی حاصل کی اور موقع پر ہی قابل ذکر برآمدی آرڈرز حاصل کیے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی آج بھی طلب موجود ہے تاہم اس کے لئے حکومتی سرپرستی اور سہولت کاری کی ضرورت ہے تاکہ اس طلب سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔ایسوسی ایشن نے وزیر اعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایات جاری کی جائیں کہ بین الاقوامی تجارتی نمائشوں میں شرکت کے لیے ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کی سبسڈی فوری طور پر بحال کی جائے،ہنرمند وں کی قلت سے نمٹنے کے لیے خصوصی تربیتی اور سکل ڈویلپمنٹ پروگرام شروع کرنے سمیت انہیں پر کشش مالی پیکج کی فراہمی میں معاونت دی جائے،رواں سال پاکستان میں منعقد ہونے والی ہاتھ سے بنے قالینوں کی عالمی نمائش کے لیے فنڈز کا بروقت اجرا ء اور قالینوں کی برآمدی صنعت کی مسابقت بڑھانے کے لیے جامع اور معاون پالیسی فریم ورک تشکیل دیا جائے۔
عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی بے تحاشہ گنجائش موجود ہے ‘ پی سی ایم ای اے
