کراچی(پی این ایچ)مختلف سرکاری اداروں کیذمے قرضوں اور واجبات کا حجم 9.5 کھرب روپے سے تجاوز کر گیا۔وزارت خزانہ کے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ نے سرکاری اداروں کی ناقص کارکردگی بے نقاب کردی،سرکاری اداروں کے حکومت پرزیادہ مالی انحصارکو قومی خزانے کے لئے خطرہ قراردے ڈالا،انکشاف کیا کہ سرکاری اداروں کے تیل ،گیس،بجلی اورانفراسٹرکچر پرخرچے اورقرضے 9557 ارب روپے تک پہنچ چکے،جن میں ملکی و غیرملکی قرضے،رول اوورز اور سود کی ادائیگی شامل ہے۔ سینٹرل مانیڑنگ یونٹ کے مطابق پاورسیکٹرکاگردشی قرضہ 4.9 ٹریلین روپے تک جا پہنچا،سرکاری اداروں کوکریڈٹ،مارکیٹ اور آپریشنل خطرات کا سامنا ہے،ناقص گورننس اور سیاسی مداخلت سے سرکاری اداروں کی کارکردگی متاثر ہوئی۔سرکاری ادارے حکومتی ضمانتوں اورمسلسل قرضوں پرانحصارکررہے ہیں،2024 کی صرف ایک ششماہی میں ان اداروں کو 616 ارب روپے کی مالی مدددی گئی،خسارے میں چلنے والے اداروں کے قرضے بڑھنے سے مالی دبائو میں اضافہ ہوا ۔ رپورٹ کے مطابق حکومتی سبسڈیزمیں تاخیر سے سرکاری اداروں کی مالی حالت مزیدخراب ہوئی، توانائی،تیل اورگیس کے اداروں کی آمدن عالمی قیمتوں کے اتارچڑھائو سے متاثر ہوئی،بوسیدہ نظام کی انتظامی کمزوریوں سے منصوبوں میں تاخیر اور اخراجات میں اضافہ ہوا۔کریڈٹ رسک مینجمنٹ سسسٹم کو مضبوط بنانا اورخسارے میں چلنے والے اداروں کی ری اسٹرکچرنگ ضروری ہے،مانیڑنگ یونٹ کا سرکاری ضمانتوں کا اجرا محدود کرنے،ریگولیٹری نگرانی بہتر بنانے پر زور خبردارکیا کہ اصلاحات نہ ہوئیں تو قومی مالی استحکام کو خطرات لاحق رہیں گے۔
مختلف سرکاری اداروں کے ذمے قرضوں کا حجم 9.5کھرب سے متجاوز
