پاکستان ریلویز کی آمدن، سیفٹی اور ڈیجیٹائزیشن میں نمایاں بہتری

لاہور (پی این ایچ) وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان ریلویز نے 2025ء میں تاریخی ترقی کی ہے اور ادارہ مالی، انتظامی اور سیفٹی کے شعبوں میں نمایاں بہتری کی جانب گامزن ہے،پاکستان ریلویز نے 2025ء میں 93ارب روپے سے زائد ریونیو حاصل کیا جبکہ مالی سال 2025-26ء کی پہلی ششماہی میں 50ارب روپے آمدن متوقع ہے۔ وزیر ریلوے نے امید کا اظہار کیا کہ مالی سال کے اختتام پر پاکستان ریلویز اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ 1کھرب روپے آمدن کا سنگِ میل عبور کرے گی۔سیفٹی کے شعبے میں انقلابی اقدامات بارے وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا کہ سیفٹی ڈیپارٹمنٹ کو ڈائریکٹوریٹ کا درجہ دینے کے بعد حادثات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ حادثات کی شرح 0.09فیصد سے کم ہو کر 0.04فیصد رہ گئی ہے جبکہ ڈائریکٹوریٹ کے قیام کے بعد ریلوے کو کسی بھی سنگین نوعیت کے حادثے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔2025میں راولپنڈی کو ملک کا پہلا سمارٹ ریلوے اسٹیشن بنایا گیا جہاں جدید کیمرے اور سیکیورٹی سسٹم نصب ہیں جبکہ 2026میں دیگر بڑے اسٹیشنوں کو بھی سمارٹ بنانے کا منصوبہ ہے۔ ٹرینوں میں بھی کیمرے نصب کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ٹرینوں اور اسٹیشنوں کی اپ گریڈیشن ریلوے نے صرف 8ماہ کے دوران 8ٹرین ریکس کو اپ گریڈ کیا، جن میں شالیمار، پاک بزنس، لاثانی اور فیض احمد فیض ٹرین شامل ہیں۔ وزیر ریلوے نے اعلان کیا کہ دسمبر 2026ء تک پاکستان ریلویز کی تمام ٹرینیں اپ گریڈ کر دی جائیں گی۔ لاہور، کراچی، راولپنڈی اور فیصل آباد کے بڑے ریلوے اسٹیشن بھی اپ گریڈ کیے جا چکے ہیں۔انہوںنے ڈیجیٹائزیشن بارے بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان ریلویز کو مکمل طور پر ڈیجیٹائز کر دیا گیا ہے اور وزارت کا تمام نظام ای فائلنگ پر منتقل ہو چکا ہے۔ تمام بڑے اسٹیشنوں پر اے ٹی ایم، ڈی وی ایم اور پی او ایس مشینیں نصب کر دی گئی ہیں۔ ملازمین کی حاضری کمپیوٹرائزڈ کر دی گئی ہے اور اب دفتر آئے بغیر تنخواہ ممکن نہیں۔وزیر ریلوے حنیف عباسی نے ریلوے اراضی سے تجاوزات کے خاتمے بارے کہا کہ2025ء میں قابضین سے 394ایکڑ ریلوے اراضی واگزار کروائی گئی ہے جبکہ دسمبر 2026تک تمام تجاوزات ختم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔انہوں نے آئوٹ سورسنگ اور دیگر اقدامات بارے بتایا کہ تین ریلوے اسکول آئوٹ سورس کر دیئے گئے ہیں جبکہ آئندہ چھ ماہ میں مزید اسکول آئوٹ سورس کیے جائیں گے۔ گیارہ مزید ٹرینیں بھی آئوٹ سورسنگ کے عمل میں شامل کی جا رہی ہیں۔ لاہور، خانیوال، ملتان، کراچی اور راولپنڈی اسٹیشنوں کی صفائی کا انتظام آٹ سورس کیا گیا ہے جس کے بعد ان اسٹیشنوں پر رات 12بجے بھی صفائی یقینی بنائی جا رہی ہے۔اس کے علاوہ اسٹیشنوں پر کھانے کے معیار کو بہتر بنایا گیا ہے جسے صوبائی فوڈ اتھارٹیز کسی بھی وقت چیک کر سکتی ہیں۔ کراچی تا روہڑی ٹریک کے منصوبے پر بھی پیش رفت جاری ہے اور جولائی میں اس کی گرائونڈ بریکنگ کی جائے گی۔