چین میں پاکستانی چلغوزے کی مانگ میں اضافہ، بیجنگ سرفہرست

بیجنگ (پی این ایچ)چین میں گزشتہ سال 2025 میں پاکستانی چلغوزے (پائن نٹس) کیلئے بیجنگ بدستور سب سے بڑی منڈی رہا ہے،یہ رجحان چینی صارفین کی مضبوط طلب، مستحکم تجارتی ذرائع اور چینی منڈی میں پاکستان کے اعلیٰ معیار کے خشک میوہ جات کی بڑھتی ہوئی پہچان کی عکاسی ہے۔گوادر پرو کے مطابق چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز (GACC) کے سرکاری اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ 2025 میں بیجنگ نے پاکستان سے 7 لاکھ 58 ہزار کلوگرام سے زائد چلغوزے درآمد کیے، جن کی مالیت 1 کروڑ 17 لاکھ 20 ہزار امریکی ڈالر رہی، جو چین کے دیگر تمام علاقوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔دیگر علاقوں میں بھی نمایاں درآمدات ریکارڈ کی گئیں، جن میں ساحلی صوبہ ژیجیانگ شامل ہے جہاں مجموعی طور پر 3 لاکھ 79 ہزار کلوگرام چلغوزے درآمد کیے گئے جن کی مالیت تقریباً 59 لاکھ 50 ہزار امریکی ڈالر تھی۔ اس کے بعد شنگھائی رہا جہاں 8,720 کلوگرام چلغوزے درآمد ہوئے جن کی مالیت 1 لاکھ 66 ہزار 310 امریکی ڈالر تھی۔ سنکیانگ اویغور خودمختار علاقے میں نسبتاً کم مقدار میں درآمدات ہوئیں۔ اگرچہ چین بھر میں طلب میں تنوع پیدا ہو رہا ہے، تاہم مقدار اور مالیت دونوں کے لحاظ سے بیجنگ کی برتری واضح ہے۔پاکستانی چلغوزے کی مقبولیت حال ہی میں بیجنگ میں منعقد ہونے والے ”نیو ایئر گڈ فیئر”کے دوران بھی نمایاں رہی، جو نیشنل ایگریکلچر ایگزیبیشن سینٹر میں پاکستانی سفارت خانے کے قریب منعقد ہوا۔ چینی نئے سال کی خریداری کے موسم کے ساتھ منعقد ہونے والے اس میلے میں پاکستانی چلغوزے چینی صارفین کی خصوصی توجہ کا مرکز رہے، جہاں خریداروں نے ان کے ذائقے، معیار اور صحت بخش خصوصیات کو سراہا اور انہیں تہواروں کے لیے لازمی خرید قرار دیا۔چین کی جلِن یونیورسٹی میں پاکستانی ایسوسی ایٹ پروفیسر، امجد زرین نے بھی اس میلے کا دورہ کیا اور گوادر پرو کو بتایا کہ میلے کا بروقت انعقاد فروخت اور تشہیر میں اضافے کا باعث بنا۔ ان کے مطابق، میلے میں پاکستانی چلغوزوں کی قیمت 280 یوان فی کلوگرام مقرر کی گئی تھی جو مسابقتی سمجھی جا رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ میلے میں پاکستانی چلغوزوں کی قیمت 280 یوان (تقریباً 40.1 امریکی ڈالر) فی کلوگرام تھی، جو پاکستان کی مقامی مارکیٹ کے مقابلے میں خاصی مسابقتی ہے۔ ان کے مطابق اس نمائش نے پاکستان کی زرعی صلاحیتوں کو اجاگر کیا اور برآمد کنندگان کو چینی درآمد کنندگان، ریٹیلرز اور ای۔کامرس پلیٹ فارمز سے جوڑنے میں مدد دی۔انہوں نے بتایا کہ سڑکوں پر بھی پاکستانی چلغوزے کی مانگ واضح نظر آئی، جہاں بعض دکاندار 500 گرام کے پیکٹ 80 یوان میں فروخت کرتے ہوئے انہیں کم قیمت پاکستانی چلغوزے قرار دے رہے تھے۔ تجارتی ماہرین کے مطابق بہتر لاجسٹکس، مستقل معیار اور بیجنگ جیسے شہروں میں ہدفی تشہیری سرگرمیاں چین کی منافع بخش خشک میوہ جات کی منڈی میں پاکستان کا حصہ مزید بڑھا سکتی ہیں۔ چین میں پاکستانی سفارت خانہ اور قونصل خانے پاکستانی آموں اور دستکاریوں کی طرح اس اعلیٰ قدر کی حامل مصنوعات کے فروغ کے لیے روڈ شوز منعقد کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔ صحت سے متعلق بڑھتی ہوئی آگاہی اور اعلیٰ معیار کی درآمدی خوراک کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر، پاکستانی چلغوزے آنے والے برسوں میں چین میں اپنی مضبوط جگہ بنانے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہیں۔