پلوشہ ،علیم آمنے سامنے ،تحریکِ استحقاق جمع

اسلام آباد (پی این ایچ) پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے وفاقی وزیرِ مواصلات عبدالعلیم خان کے خلاف سینیٹ سیکرٹریٹ اسلام آباد میں تحریکِ استحقاق جمع کرا دی۔منگل کو پلوشہ خان نے سحر کامران و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ وفاقی وزیر کے خلاف تحریک استحقاق جمع کرائی ہے ،یہ میرا ذاتی معاملہ نہیں بلکہ اس ایوان کے تقدس کا معاملہ ہے ۔ انہوںنے کہاکہ کیا منتخب نمائندے سوال نہیں کرسکتے، اگر یہ روش تبدیل نہ ہوئی تو پورا ایوان یرغمال ہوگا ۔ انہوںنے کہاکہ جو لوگ مفادات کے عادی ہیں شائد وہ ہر سوال کے پیچھے سازش تلاش کرتے ہیں ،آج سے کئی سال پہلے میں نے ایک سوال ایوان کے سامنے رکھا مگر جواب نہ آیا ۔ انہوںنے کہاکہ میرا سوال ایک سڑک کے حوالے سے تھا اور وہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے بن رہی تھی ،میرا سوال تھا کہ ایک سڑک کیا عوام کیلئے ہے یا کسی مخصوص ہاؤسنگ سوسائٹی کیلئے ،اگر اس معاملے پر کسی کو غصہ آتا ہے تو پھر مسئلہ سوال نہیں جواب کا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ میں واضح کررہی ہوں کہ ایک سوال کے بعد کئی اور سوال جنم لے رہے ہیں۔پلوشہ خان نے کہاکہ پارلیمنٹ میں آواز نہیں اپنی دلیل کو مضبوط کریں،سیاست تماشا نہیں ہے مگر اس ملک میں تماشا بنایا جارہا ہے ،ہم اس روش کو روکیں گے، بد زبانی کا مطلب ہے کہ آپ کے پاس دلیل نہیں ،اگر کسی کو لگتا ہے دھونس سے سوال دب جائیں گے تو اس طرح نہیں ہوگا ۔ انہوںنے کہاکہ تمام وزرائاس ایوان کو جواب دہ ہیں، وزیراعظم اپنے نتیش کمار جیسے وزرا کو سنبھالیں،یہ بھارت نہیں اور نہ یہاں آر ایس ایس کی حکومت ہے یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ۔ انہوںنے کہاکہ میں عورت کی آڑ میں چھپی ہوں نہ چھپوں گی، ہم سب یہاں منتخب نمائندے ہیں ،یہ وہ نتیش کمار ہیں جنہوں نے اپنی سابقہ پارٹی کے سربراہ کی بیگم بشری بی بی کی بھی تذلیل کی ۔ انہوںنے کہاکہ بزدل مردوں کی نشانی ہوتی ہے وہ عورت ذات پر الزامات لگانا ہوتا ہے ،کیا میرے اوپر کوئی کرپشن کا کلنک یا غریبوں کو دریا برد کرنے کا کوئی الزام ہے ،جو میری ذات سے منسلک ہے اگر وہ بول پڑے تو آپ کے تمام پول کھل جائیں گے۔پلوشہ خان نے کہاکہ شیشے کے گھر میں بیٹھ کر دوسروں پر پتھر نہیں مارنے نہیں چاہئیں،کوئی آوارہ جانور مجھے کاٹے گا تو پھر اس کو ویکسینیشن لگے گی ،اب بات سینیٹ میں ہوگی اور اس کا فیصلہ صدر مملکت آصف علی زرداری کرینگے۔سحر کامران نے کہاکہ صرف سینیٹ نہیں بلکہ قومی اسمبلی بھی سینیٹر پلوشہ خان کیساتھ کھڑی ہے،پورے ایوان کی خواتین سینیٹر پلوشہ کے ساتھ ہیں ،یہ صرف ایک ممبر یا کمیٹی نہیں بلکہ اس پارلیمان کی توہین اور استحقاق مجروح کیا گیا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ انسانی حقوق، حقوق نسواں سمیت تمام ادارے اس معاملے کا نوٹس لیں ،سینیٹر پلوشہ خان نے کوئی دباؤ قبول نہیں کیا جس پر وہ داد تحسین کی مستحق ہیں۔ یاد رہے کہ سینیٹر پلوشہ خان کی تحریکِ استحقاق کے مطابق وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے فنڈز پر سوال کا جواب دینے کے بجائے چلانا شروع کر دیا تھا،تحریک استحقاق میں کہا گیا کہ وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے تضحیک اور دھمکی آمیز زبان استعمال کی۔واضح رہے کہ چند روز قبل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات میں وفاقی وزیر عبدالعلیم خان اور پلوشہ خان میں تلخ کلامی ہو گئی تھی۔عبدالعلیم خان نے پلوشہ خان کو شٹ اپ کہا تو جواب میں پلوشہ نے انہیں یو شٹ اپ کہہ دیا۔سینیٹر پرویز رشید کی بیچ بچاؤ کروانے کی کوششیں بھی رائیگاں گئیں، پرویز رشید سینیٹر پلوشہ خان اور علیم خان کو خاموش کرواتے رہے۔پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے علیم خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم ہو کون اس طرح کی بات کرنے والے؟ جس کے جواب میں علیم خان بولے آپ عزت کریں گے تو آپ کی عزت ہم کریں گے۔