ولی بابر قتل کیس: 15 سال میں مقدمہ انجام کو نہ پہنچ سکا، 6گواہان سمیت 9افراد پے در پے وارداتوں میں قتل

ولی خان بابر کو 13 جنوری 2011 کی رات لیاقت آباد میں سپرمارکیٹ کے سامنے کار پر اندھا دھند فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا
کراچی(پی این ایچ)نجی ٹی وی کے رپورٹر ولی خان بابر کے قتل کو 15 سال گزر گئے لیکن انصاف کے حصول کی کوششوں میں 6 گواہوں سمیت 9 متعلقین قتل کیے جا چکے ہیں اور کیس ابھی تک منقطی انجام کو نہیں پہنچ سکا۔ ولی خان بابر کو 13 جنوری 2011 کی رات کراچی میں دفتر سے گھر جاتے ہوئے لیاقت آباد میں سپرمارکیٹ کے سامنے کار پر اندھا دھند فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا۔ انسداد دہشتگردی کی عدالت نے سال 2014 میں مقدمے میں مرکزی کردار فیصل موٹا، محمد علی رضوی، شاہ رخ عرف مانی، نوید عرف پولکا اور شکیل عرف ملک کو سزائے موت سنائی تھی۔ مرکزی کردار فیصل موٹا سمیت کئی ملزمان کو 2015 میں رینجرز نے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چھاپہ مار کر گرفتار کیا تھا، مفروری میں سزا پانے والے فیصل موٹا کی اپیل پر یہ مقدمہ اب دوبارہ زیر سماعت ہے۔ ولی بابر کے قتل میں ملوث گاڑی کے ایم سی کے افسر لیاقت علی کی تھی، اشتہاری ملزم لیاقت علی 26 مئی 2012 کو شفیق تنولی نے کلفٹن میں مشکوک مقابلے میں ہلاک کیا، قتل میں ملوث گاڑی برآمد کرانے والے رجب بنگالی کو 29 جنوری، گاڑی کا نمبر نوٹ کرنے والے پولیس اہلکار آصف رفیق کو واردات کے 18 دن بعد 31 جنوری کو لیاقت آباد میں گھر سے باہر بلوا کر قتل کیا گیا۔ رجب بنگالی کی لاش کے ساتھ ملی پرچی پر لکھے نام پولیس افسر ارشد کنڈی کو 20 مارچ 2011 کو گلزار ہجری لائن کے باہر فائرنگ کرکے شہید کیا گیا۔ولی بابر کے قتل کے 85 دن بعد 7 اپریل کو واردات میں ملوث 5 ملزمان گرفتار کیے گئے، ملزمان کو گرفتار کرنے والے پولیس افسر شفیق تنولی کو لائیو پریس کانفرنس کے چند منٹ بعد گمنام فون کال میں تحفہ ملنے کا کہا گیا جس کے 8 گھنٹے بعد ایس ایچ او شفیق تنولی کے بھائی نوید تنولی کو گلشن اقبال میں مار دیا گیا۔شفیق تنولی کے ساتھی اہلکار فیصل تنولی کو 11 دسمبر 2011 کو گلستان جوہر میں فائرنگ سے ہلاک کیا گیا جب کہ ولی بابر کیس کے اہم گواہ حیدر علی عرف سلیم نے 13 نومبر کو عدالت میں گواہی دینا تھی اسے 11 نومبر 2012 کو سولجر بازار میں گھر میں گھس کر قتل کردیا گیا۔ ولی بابر قتل کیس کے پراسیکیوٹر مشہور وکیل نعمت علی رندھاوا کو 26 ستمبر 2013 کو کراچی کے علاقے ناظم آباد میں کار پر فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔ قتل کیس کے اہم تفتیش کار انسپکٹر شفیق تنولی اور 3 ساتھی اہلکار کو 24 اپریل 2014 کو پی آئی بی کالونی میں فائرنگ اور بم دھماکا کرکے قتل کیا گیا۔ ولی بابر کو کیوں قتل کیا گیا؟ اس سوال کا جواب سرکاری طور پر ابھی تک نہیں دیا جا سکا تاہم ذرائع بتاتے ہیں کہ بانی ایم کیوایم کی سابقہ اہلیہ کا انٹرویو کرنے کی کوشش پر ولی خان بابر کو شہید کرایا گیا۔