لاہور( پی این ایچ)صوبائی دارالحکومت لاہور میں بسنت کے لئے پتنگوں او رڈور کی فروخت کا باضابطہ آغاز ہو گیا ،چھٹی کا روز ہونے کی وجہ سے شہریوں کی بڑی تعداد نے اندرون کا رخ کیا اور اکثریت نے قیمتیں انتہائی زیادہ ہونے کے باوجود خریداری کی جبکہ وسائل نہ رکھنے والے قیمتیں سن کر واپس آ گئے ۔ حکومت کی جانب سے بسنت کے تہوار کے لئے پتنگوں اور ڈور کی فروخت کی اجازت ملنے کے بعد اندرون لاہور میں میلے کا سماں ہیں ، چھوٹے بڑے پتنگوں اور ڈور کی خریداری کے لئے پہنچ گئے اور انتہائی زیادہ رش دیکھنے میں آیا ۔ لوگوں کا رش او رمانگ کو دیکھتے ہوئے دکانداروں نے پتنگوں او رڈور کے منہ مانگے دام وصول کئے ۔ سروے کے مطابق ایک تاوا گڈے کی قیمت300سے400،ڈیڑھ تاوے کی قیمت550سے700روپے تک پہنچ گئی ہے ۔ مارکیٹ میں پونا تاوا کہیں کہیں دستیاب ہے جس کی 200روپے تک قیمت مانگی جارہی ہے تاہم اس کی طلب کم ہے ۔ دوسری جانب مارکیٹ میں ڈور کے پنے کی قیمت ’’ پیس ‘‘ کے حساب سے وصول کی جارہی ہے ، ڈور کے ڈیڑھ پیس کے پنے کی قیمت 5ہزار سے شروع ہے اور مختلف سائز کے پنوں کی قیمت 10ہزار تک ہے۔ دوسری جانب وسائل نہ رکھنے والے شہری قیمتیں سن کر دھنگ رہ گئے اور خالی ہاتھ مایوس واپس لوٹنے پر مجبور ہو گئے ۔ ان لوگوں کا کہنا تھاکہ بسنت اب امیروں کا تہوار ہے ، جتنی رقم کا ایک پنا آرہا ہے اس سے غریب کے گھر کا ایک ہفتے کا راشن آ جاتاہے ۔حکومت کو چاہیے کہ بسنت کے تہوار کو پسے ہوئے طبقات کی دسترس میں بھی لائے اور قیمتیں کم کرائی جائیں۔
پتنگوں ،ڈورکی فروخت شروع ،شہریوں کی بڑی تعداد نے اندرون کا رخ کرلیا
