لاہور (پی این ایچ) پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پیاف ) کے پیٹرن انچیف میاں سہیل نثار ،چیئرمین سید محمود غزنوی اور وائس چیئرمین راجہ وسیم حسن نے پالیسی ریٹ کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے پرشدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ فیصلے سے کاروباری طبقہ مایوس اور سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوا ہے،حکومت کے اپنے دعوئوں کے مطابق معیشت بحالی کی جانب گامزن ہے ، مہنگائی کی شرح میں کمی جبکہ روپیہ مستحکم ہے تو ایسے میں زمینی حقائق کے مطابق پالیسی ریٹ میں کمی ہونی چاہیے ۔اپنے مشترکہ بیان میں انہوںنے کہاکہ بلند شرح سود کے باعث نجی سرمایہ کاری بری طرح متاثر ہو رہی ہے، صنعتی سرگرمیاں سست روی کا شکار ہیںاور نئے کاروبار شروع کرنا مشکل ہو گیا ہے،صنعتیں پہلے ہی بجلی، گیس، ٹیکسز اور دیگر اخراجات کے دبا ئومیں ہیں جبکہ مہنگے قرضوں نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ،چھوٹا تاجر کسی طور پر موجودہ پالیسی ریٹ پر قرض لے کر سرمایہ کاری نہیں کرسکتا جس سے سرمائے کی قلت بر قرار رہے گی ،معاشی اور کاروباری اعتماد کی بحالی کیلئے شرح سود کا سنگل ڈیجٹ ہونا ناگزیر ہے۔پیاف کے رہنمائوں نے مزید کہا کہ ملک میں مہنگائی کی شرح میں بتدریج کمی واقع ہو رہی ہے اور اس وقت افراطِ زر 5.6 فیصد کی سطح پر آچکی ہے جسے مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی ریٹ میں کمی کی واضح گنجائش موجود تھی ،اس صورتحال میں اسٹیٹ بینک باآسانی پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ میں لا سکتا تھا تاہم ایسا نہ کرنا کاروباری طبقے کے لیے مایوس کن ہے۔عالمی اصولوں کے مطابق انٹرسٹ ریٹ کا تعین انفلیشن ریٹ میں پوزیٹو رئیل ریٹ شامل کرکے کیا جاتا ہے جو عموماً 2 سے 4 فیصد کے درمیان ہوتا ہے، اگر موجودہ 5.6 فیصد افراطِ زر میں کم از کم 2 فیصد پوزیٹو رئیل ریٹ شامل کیا جائے تو پالیسی ریٹ تقریباً 7.6 فیصد بنتا ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ 4 فیصد شامل کرنے کی صورت میں بھی یہ شرح 9.5 سے 9.6 فیصد تک رہتی ہے جسے اسٹیٹ بینک باآسانی نافذ کرسکتا تھا۔ملک میں پہلے ہی فنانسنگ کی لاگت بہت زیادہ ہے، کاروبار کرنے کی مجموعی لاگت بڑھ چکی ہے اور بجلی و توانائی کی قیمتیں بھی غیر معمولی حد تک بلند ہیں ایسے میں بلند شرح سود صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کو مزید متاثر کر رہی ہے،شرح سود میں کمی ہی معاشی سرگرمیوں کو دوبارہ بحال کر سکتی ہے۔
انفلیشن ریٹ کے تناسب سے پالیسی ریٹ 7.6 فیصد بنتا ہے ‘ پیاف
