ایم کیو ایم پاکستان کے اہم وزرا کی سکیورٹی واپس لے لی گئی

کراچی (پی این ایچ)ایم کیو ایم پاکستان کے اہم وزرا، اراکین اسمبلی اور لیڈروں کی سیکیورٹی اچانک واپس لے لی گئی۔میڈیارپورٹ کے مابق وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار، مصطفی کمال، انیس قائم خانی کی سیکیورٹی واپس لی گئی ہے۔اس کے علاوہ سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کی بھی سیکیورٹی واپس لی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کے وزرا، اراکین اسمبلی اور لیڈروں کو سیکیورٹی ہٹائے جانے پر تشویش ہے۔ذرائع کے مطابق ایم کیوایم کے وزرا اور اراکین اسمبلی نے سانحہ گل پلازہ کے بعد حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کہا کہ سندھ حکومت سمجھتی ہے لوگ گل پلازا کی آگ بھول جائیں گے، ایم کیو ایم شہری سندھ کی سب سے بڑی جماعت ہے، ہم سے اختلاف رکھیں لیکن اس ایجنڈے پر ہمارا ساتھ دیں۔انہوں نے کہا کہ اتنا بڑا سانحہ ہوگیا لیکن اسمبلی میں ہمیں بات کرنے نہیں دی جارہی، سانحے کی تحقیقات کیلئے جب تک جوڈیشل کمیشن نہیں بنے گاایوان میں احتجاج کرتے رہیں گے۔ دریں اثناء سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے کہا کہ شہر میں پولیس کم ہے، ہوسکتا ہے اس وجہ سے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماوں سے پولیس سیکیورٹی واپس لی ہو۔میڈیا سے گفتگو میں سعدیہ جاوید نے کہا کہ میرے پاس کوئی سیکیورٹی نہیں ہے، سندھ کے حکومتی ایم پی ایز کے پاس بھی کوئی سیکیورٹی نہیں۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماں سے سیکیورٹی واپس لینے کی یقینا کوئی وجوہات ہوں گی۔ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ صوبے میں فرانزک لیب کا قائم نہ ہونا حکومت کی کوتاہی ہے، سال کے آخر میں سندھ کی فرانزک لیب فعال ہوجائے گی۔سعدیہ جاوید نے کہا کہ گل پلازا کے سامنے دو پلازے ہیں، جہاں دکانداروں کو شفٹ کیا جائے گا، اس حوالے سے حکومت پلازا کے مالکان سے بات کر رہی ہے۔ ایک پلازا میں 500 اور دوسرے پلازے میں 350 دکانیں ہیں۔انہوںنے کہاکہ کمیٹی گل پلازا کے نقصان کا تخمینہ لگائے گی اور اس کا ازالہ بھی حکومت کرے گی، کمیٹی تین ہفتے میں گل پلازا کے نقصان کی رپورٹ حکومت کو پیش کرے گی۔