اسلام آباد (پی این ایچ) وفاقی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وادی تیرہ میں کوئی آپریشن نہیں ہورہا ہے ، برف باری کے باعث ہر سال نقل مکانی ہوتی ہے یہ کوئی کرائسز نہیں ہے جسے کرائسز کی شکل دی جارہی ہے ،وادی تیراہ کے حوالے سے صوبائی حکومت اور جرگے کی مشاورت سے معاملات طے پائے جس کے بعد نوٹی فکیشن جاری کیا گیا،صوبائی حکومت اور جرگے کے درمیان کہیں بھی فوج نہیں،کے پی حکومت اپنی ناکامی کا ملبہ فوج یا ایسے آپریشن پر ڈالنا چاہتی ہے جس کا وجود نہیں، صوبائی حکومت نے نقل مکانی کرنے والوں کے لیے چار ارب روپے کے فنڈز رکھے ہیں ،چار ارب روپے کا حساب کے پی حکومت دیگی بتائے چار ارب روپے کہاں خرچ ہوئے؟ ،آپریشن سے متعلق مفروضے قائم کیے جارہے ہیں، دہشت گردوں کے خلاف خفیہ اطلاعات پر آپریشن جاری رہیں گے، دہشت گردوں کا ہر صورت قلع قمع کریں گے۔ منگل کو یہاں وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے وزیرِ اطلاعات عطاء اللّٰہ تارڑ اور وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وادی تیرہ میں کوئی آپریشن نہیں ہو رہا،برف باری میں ہر سال نقل مکانی ہوتی ہے، یہ کوئی کرائسز نہیں ہے جسے کرائسز کی شکل دی جا رہی ہے، وادی تیراہ کے حوالے سے صوبائی حکومت اور جرگے کی مشاورت سے معاملات طے پائے۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ صوبائی حکومت اور جرگے کے درمیان کہیں بھی فوج نہیں، کے پی حکومت اپنی ناکامی کا ملبہ فوج یا ایسے آپریشن پر ڈالنا چاہتی ہے جس کا وجود نہیں، نقل مکانی معمول کی بات ہے، نوٹیفکیشن صوبائی حکومت کا ہے، وہ واپس لے لے۔انہوںنے کہاکہ یہ ایگریمنٹ صوبائی حکومت اور جرگے میں طے پایا، نوٹیفکیشن شائع ہوا، صوبائی حکومت نے نقل مکانی کرنے والوں کے لیے 4 ارب روپے کے فنڈز رکھے۔وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے بتایا کہ وادی تیراہ کے اندر کالعدم ٹی ٹی پی کے 5 سو لوگ موجود ہیں، جرگے کے ارکان کالعدم ٹی ٹی پی کے پاس گئے، کالعدم ٹی ٹی پی کے لوگ بال بچوں کے ساتھ وہاں رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ہوتے ہیں، ہمیں جہاں اطلاع ملتی ہے ہم وہاں جاتے ہیں اور آپریشن کرتے ہیں۔وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ یہ نقل مکانی معمول کی بات ہے، وادی تیراہ میں کوئی تھانہ نہیں ہے، 17 ہزار فٹ کی اونچائی ہے اور سخت سردی ہوتی ہے، برف باری کے دوران پاک افغان سرحد پر واقع وادیوں سے نقل مکانی ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور جرگے کی مشاورت کے بعد نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، جرگے میں طے پایا کہ علاقے میں مراکزِ صحت، اسکول اور تھانے قائم کیے جائیں گے، صوبائی حکومت اور جرگے کے درمیان کہیں بھی فوج نظر نہیں آ رہی۔خواجہ آصف نے کہا کہ وادی تیراہ میں کئی سالوں سے آپریشن نہیں ہوا، یہ سب مفروضے ہیں، وادی تیراہ کے عوام کی فلاح و بہبود ترجیح ہے، برف باری کے دوران پاک افغان سرحد پر واقع وادیوں سے نقل مکانی ہوتی ہے، وادی تیراہ میں بھی ہر سال برف باری سے نقل مکانی ہوتی ہے۔انہوںنے کہاکہ صوبائی حکومت نے نقل مکانی کرنے والوں کے لیے 4 ارب روپے کے فنڈز رکھے ہیں، نقل مکانی کو بحران کی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، یہ حالات بنائے گئے ہیں کہ جبری نقل مکانی کرائی جا رہی ہے۔وزیرِ دفاع نے کہاکہ 11، 25 اور 26 دسمبر کو مشران کالعدم ٹی ٹی پی کے پاس گئے، ان مشران نے پھر وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا سے ملاقات کی۔ انہوںنے کہاکہ صوبائی حکومت نے نقل مکانی کرنے والوں کے لیے چار ارب روپے کے فنڈز رکھے ہیں چار ارب روپے کا حساب کے پی حکومت دے گی بتائے چار ارب روپے کہاں خرچ ہوئے؟ مگر یہاں تو نقل مکانی کو بحران قرار دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جرگے میں یہ بھی طے پایا تھا کہ علاقے میں اسکول اور تھانے بھی قائم کیے جائیں گے جبکہ جرگے کے ارکان ٹی ٹی پی کے پاس بھی گئے تھے۔انہوںنے کہاکہ آپریشن سے متعلق مفروضے قائم کیے جارہے ہیں، دہشت گردوں کے خلاف خفیہ اطلاعات پر آپریشن جاری رہیں گے، دہشت گردوں کا ہر صورت قلع قمع کریں گے۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی کتنی برس سے کے پی میں حکومت ہے اور وہ دہشت گردوں کو سپورٹ کررہی ہے۔
تیرہ میں کوئی آپریشن نہیں ہورہا ، برف باری کے باعث ہر سال نقل مکانی ہوتی ہے ، وفاقی حکومت
