کراچی (پی این ایچ)سندھ میں چائلڈ لیبر پر 28 سال بعد ہونے والے جامع سروے میں ہوش ربا انکشافات سامنے آئے ہیں، سندھ چائلڈ لیبر سروے کے مطابق 16 لاکھ سے زائد بچے محنت مشقت جیسے مسائل میں گرفتار ہیں۔میڈیارپورٹ کے مطابق سروے محکمہ محنت سندھ، یونیسیف اور بیورو آف اسٹیٹکس کے اشتراک سے مکمل کیا گیا ہے۔سندھ چائلڈ لیبر سروے 24ـ2022 کے مطابق 10 سے 17 سال کی عمر کے 8 لاکھ سے زائد بچے خطرناک حالات میں کام کررہے ہیں، محنت کش بچوں کی اسکول حاضری کی شرح صرف 40.6 فیصد ہے۔قمبر شہداد کوٹ میں چائلڈ لیبر کی شرح سب سے زیادہ 30.8 فیصد ریکارڈ کی گئی، تھرپارکر میں 2.9 فیصد، شکار پور میں 20.2 فیصد اور ٹنڈو محمد خان میں 20.3 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیبر محمد علی شاہ نے کہا کہ کراچی میں چائلڈ لیبر کی شرح سب سے کم 2.38 فیصد ہے، حکومت کو رپورٹ کی روشنی میں فوری اقدمات اٹھانے کی ضرورت ہے۔
سندھ میں لاکھوں بچے مشقت پر مجبور، چائلڈ لیبر سروے میں انکشاف
