اسلام آباد(پی این ایچ) مختلف مذاہب کے درمیان رواداری کی ایک روشن ریاست پنجاب کے ایک گائوں میں دیکھنے کو ملی جہاں ایک سکھ خاتون نے مسجد کے لیے اپنی ذاتی زمین عطیہ کر دی۔جکھوالی نامی اس گاں کی اکثریت سکھوں پر مشتمل ہے۔ کئی ہندو اور مسلم خاندان بھی برسوں سے یہاں آباد ہیں۔گائوں میں گوردوارہ اور مندر تو موجود تھے مگر مسجد نہ ہونے کے باعث مسلمانوں کو دور دراز دیہاتوں کا رخ کرنا پڑتا تھا۔جس کا احساس کرتے ہوئے 74 سالہ سکھ خاتون بی بی راجندر کور نے اپنی ذاتی 5 مرلہ زمین مسجد بنانے کے لیے عطیہ کردی۔مسجد کے لیے زمین عطیہ کرنے والی خاتون نے بتایا کہ وہ اپنے مسلمان ہمسایوں کی مشکلات سے بخوبی آگاہ تھیں اور اسی لیے اپنی زمین مسجد کے لیے دینے کا فیصلہ کیا۔بی بی راجندر کور کا کہنا تھا کہ مذہب انسانیت سے بڑا نہیں ہوتا اور ایک دوسرے کی ضرورت کا خیال رکھنا ہی اصل خدمت ہے۔ضلع فتح گڑھ صاحب کے اس گاں میں مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کی اس روشن مثال کا سب سے خوش آئند پہلو یہ ہے کہ گاوں کے مخیر سکھ اور ہندووں نے بھی زمین پر مسجد کی تعمیر میں مالی تعاون کر رہے ہیں۔بی بی راجندر کور کے نام زمین کو باقاعدہ قانونی طریقہ کار کے تحت مسجد کمیٹی کے نام منتقل کر دیا گیا ہے۔گائوں کے سر پنچ مونو سنگھ نے بتایا کہ چونکہ سرکاری زمین مذہبی عمارت کی تعمیر کے لیے مختص نہیں کی جا سکتی تھی اس لیے ذاتی زمین عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔مسجد کمیٹی کے صدر کالا خان نے اس اقدام کو بین المذاہب بھائی چارے کی روشن مثال قرار دیتے ہوئے سکھ خاتون اور گاں کے دیگر مکینوں کا شکریہ ادا کیا۔
شرپسندوں کے دیس بھارت میں سکھ خاتون نے مثال قائم کر دی
