حماس رہنما خالد مشعل نے تخفیفِ اسلحہ یا غیر ملکی حکمرانی کو مسترد کر دیا

دوحہ (پی این ایچ )حماس کے ایک سینیئر رہنما نے امریکی اور اسرائیلی مطالبات کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی تحریک اپنے ہتھیاروں سے دستبردار نہیں ہو گی اور نہ ہی غزہ میں غیر ملکی مداخلت قبول کرے گی۔سینیئر رہنما خالد مشعل نے دوحہ میں ایک کانفرنس میں کہا کہ مزاحمت، اس کے ہتھیاروں اور اسے انجام دینے والوں کو مجرم بنانا ہمیں قبول نہیں کرنا چاہیے۔جب تک قبضہ برقرار ہے، مزاحمت موجود ہے۔ مزاحمت قبضے میں رہنے والے لوگوں کا حق ہے۔گروپ کے سابق سربراہ مشعل نے کہاکہ ایسی چیز جس پر اقوام فخر کرتی ہیں، مشعل نے بورڈ آف پیس پر ایک متوازن نکت نظر اپنانے پر زور دیا جس سے غزہ کی تعمیرِ نو اور اس کے تقریبا 2.2 ملین باشندوں کو امداد کی فراہمی ممکن ہو جبکہ اس بات سے خبردار کیا کہ حماس فلسطینی سرزمین پر غیر ملکی حکمرانی قبول نہیں کرے گی۔مشعل نے کہا، ہم اپنے قومی اصولوں پر قائم ہیں اور سرپرستی، بیرونی مداخلت یا کسی بھی شکل میں مینڈیٹ کی واپسی کی منطق مسترد کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا، فلسطینیوں کو ہی فلسطینیوں پر حکومت کرنی چاہیے۔ غزہ، غزہ اور فلسطین کے لوگوں کا ہے۔ ہم غیر ملکی حکمرانی قبول نہیں کریں گے۔