اسرائیل کی لبنان پر جارحیت قابل مذمت، خطے میں امن کیلئے پر عزم ہیں، پاکستان

اسلام آباد(پی این ایچ)دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کیلئے پرعزم ہے اور لبنان میں اسرائیلی جارحیت و حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے، پاکستان کی کوششوں سے ایران امریکا جنگ بندی ممکن ہوئی جسے عالمی سطح پر سراہا گیا۔ہفتہ وار بریفنگ میںترجمان دفترخارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کیلئے پاکستان اہم کردار ادا کر رہا ہے، اسلام آباد مذاکرات کے انعقاد میں وزیر اعظم شہباز شریف نے بھرپور کردار ادا کیا، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور انکی ٹیم بھی امن مذاکرات کے انعقاد کیلئے کوشاں رہی، مذاکرات سے قبل ٹیلیفون کے ذریعے پاکستانی قیادت عالمی رہنماؤں سے رابطے میں رہی، وزیر اعظم اسوقت 3ملکوں کے دورے پر ہیں، انکو مختلف ممالک کی قیادت کی ٹیلیفون کالز موصول ہوئی ہیں، عالمی قیادت نے پاکستان کی امن کوششوں کو سراہا۔ترجمان نے کہاکہ وزیر اعظم کی سعودی ولی عہد سے اہم ملاقات ہوئی اور امریکا ایران کشیدگی میں کمی کیلئے پاکستان کی تعمیری و مثبت کوششوں کو تسلیم کیا گیا، وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاکستان نے فریقین سے رابطے کے چینلز کھلے رکھے، چیف آف ڈیفنس فورسز گزشتہ روز ایران کے دورے پر پہنچے،پاکستان نے ایس سی او میں بھرپور شرکت کی، اسلام آباد میں 4ممالک کے سینئر حکام کا اجلاس منعقد کیا گیا، ان ممالک میں سعودی عرب، ترکیہ اود مصر شامل تھے۔ ترجمان نے بھارتی افسر کی ترقی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کرنل پروہت سمجھوتہ ایکسپریس حملے میں ملوث رہے، یہ اقدام انصاف کے تقاضوں کے برعکس اور افسوسناک ہے، سمجھوتہ ایکسپریس حملے کے متاثرین دو دہائیوں سے انصاف کے منتظر ہیں، پاکستان نے واقعہ کی شفاف و غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا، بھارت میں احتساب کے نظام پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں، بین الاقوامی برادری اس معاملے کا نوٹس لے۔طاہر حسین اندرابی کا کہنا تھاکہ بھارت کی نام نہاد حلقہ بندی سے متعلق رپورٹس کا نوٹس لیا ہے، بھارتی پارلیمنٹ میں حلقہ بندی کا عمل مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں حلقہ بندی کا عمل غیر قانونی اور بے بنیاد ہے، جوایک متنازع خطے میں کیا جا رہا ہے جسکی کوئی قانونی حیثیت نہیں، حلقہ بندی کا مقصد خطے کی آبادی اور سیاسی ڈھانچے کو تبدیل کرنا ہے، کشمیری عوام کو سیاسی طور پر مزید محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں حلقوں کی نئی حد بندی کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں، جموں و کشمیر کا حتمی فیصلہ اقوامِ متحدہ قراردادوں کے مطابق ہونا ہے، بھارت کا آزاد جموں و کشمیر پر دعویٰ بے بنیاد اور بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے، بھارتی قانون سازی اور آئینی اقدامات زمینی حقائق کو تبدیل نہیں کر سکتے، یہ اقدامات اشتعال انگیز اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کسی قانون سازی سے تبدیل نہیں ہو سکتی، کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو دبایا نہیں جا سکتا، پاکستان کشمیری عوام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھے گا۔