سردار یاسر یاسین
03335911246
پاکستان کی جانب سے جاری مذاکراتی کوششیں کس حد تک کامیاب ہوں گی ،کیا ایران اور امریکہ کو راضی کر لیا جائے اس بابت قبل از وقت کچھ بھی کہنا ممکن نہیں ،ایرانی وزیر خارجہ اور مذاکراتی ٹیم نہایت تحمل کے ساتھ مذاکراتی عمل کا حصہ بنی رہی ،اسی سلسلے میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا حالیہ دورہ روس ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سفارتی سرگرمیاں غیر معمولی طور پر تیز ہو چکی ہیں، خصوصاً ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات کے تناظر میں۔ یہ دونوں پیش رفتیں بظاہر الگ دکھائی دیتی ہیں، مگر درحقیقت ایک ہی بڑے جیوپولیٹیکل منظرنامے کا حصہ ہیں، جہاں ہر ملک اپنے مفادات کے تحفظ اور اثر و رسوخ میں اضافے کی کوشش کر رہا ہے۔
عباس عراقچی کے دورۂ روس کو صرف ایک رسمی سفارتی سرگرمی کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ دورہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایران اپنی خارجہ پالیسی میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے—ایک طرف وہ امریکہ کے ساتھ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھا رہا ہے، تو دوسری جانب روس جیسے اہم اتحادی کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔ یوکرین جنگ کے بعد عالمی طاقتوں کی صف بندی میں جو تبدیلیاں آئی ہیں، ان میں ایران اور روس کا بڑھتا ہوا تعاون توانائی، دفاع اور علاقائی سیاست میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران-امریکہ مذاکرات ایک نہایت حساس اور پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ان مذاکرات کا دائرہ کار محض جوہری پروگرام تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں علاقائی سیکیورٹی، پابندیوں کا خاتمہ اور اعتماد سازی جیسے عوامل بھی شامل ہیں۔ ایران کے لیے یہ ایک نازک توازن ہے کہ وہ مذاکرات میں لچک بھی دکھائے اور اپنی خودمختاری اور اسٹریٹجک مفادات کا تحفظ بھی کرے، جبکہ امریکہ کے لیے بھی یہ ایک آزمائش ہے کہ وہ سفارتی حل کو ترجیح دے یا دباؤ کی پالیسی جاری رکھے۔
اسی تناظر میں پاکستان کا کردار خاص اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ پاکستان نے حالیہ عرصے میں ایک ذمہ دار اور متوازن سفارتی حکمت عملی اپناتے ہوئے خطے میں مکالمے اور کشیدگی میں کمی کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان اعتماد سازی کے ماحول کو بہتر بنانے میں پاکستان کی خاموش مگر مؤثر سفارتکاری قابلِ تحسین ہے۔ اسلام آباد نے نہ صرف اپنے ہمسایہ ملک ایران کے ساتھ تعلقات کو متوازن رکھا بلکہ عالمی برادری کے ساتھ بھی رابطے استوار رکھتے ہوئے ایک پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔
پاکستان کی یہ سفارتی کوششیں اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی کا براہ راست اثر اس کی معیشت اور سیکیورٹی پر پڑتا ہے۔ توانائی کے بحران، سرحدی استحکام اور تجارتی روابط جیسے مسائل پاکستان کو اس بات پر مجبور کرتے ہیں کہ وہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے فعال کردار ادا کرے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے مذاکراتی عمل کی حمایت اور سہولت کاری کو ایک مثبت اور دور اندیش قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو عباس عراقچی کا دورۂ روس اور ایران-امریکہ مذاکرات ایک پیچیدہ مگر اہم سفارتی عمل کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں مختلف طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔ اس پورے عمل میں پاکستان کا متوازن اور تعمیری کردار نہ صرف اس کی سفارتی پختگی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ خطے میں امن کے قیام کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا بھی ثبوت ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا یہ سفارتی کاوشیں کسی ٹھوس پیش رفت میں بدلتی ہیں یا نہیں، تاہم فی الحال پاکستان کی حکمت عملی ایک مثبت مثال کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔
عباس عراقچی کا دورہ روس
