وفاؤں کی منڈی،جمہوریت کے لیے زہر قاتل

آزاد جموں و کشمیر میں انتخابات کی آمد کے ساتھ ہی سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آ چکی ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے متحرک ہیں، جلسے جلوس ہو رہے ہیں، سیاسی اتحاد بن رہے ہیں اور سب سے بڑھ کر ایک مرتبہ پھر وفاداریاں تبدیل کرنے کا سلسلہ زور پکڑ چکا ہے۔ وہ سیاستدان جو گزشتہ چند برسوں سے ایک جماعت کے نظریات، قیادت اور منشور کے گن گاتے رہے، آج اقتدار کے امکانات دیکھتے ہوئے دوسری جماعتوں کا رخ کر رہے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف جمہوری اقدار کے منافی ہے بلکہ عوام کے سیاسی اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔
آزاد کشمیر کی سیاست میں یہ روایت نئی نہیں، مگر ہر انتخاب کے قریب اس کا شدت اختیار کر جانا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہماری سیاست نظریات کے بجائے مفادات کے گرد گھوم رہی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان نظریاتی فرق کم اور اقتدار کے حصول کی دوڑ زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کے حقیقی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں جبکہ سیاسی شخصیات صرف اپنی سیاسی بقا اور وزارتوں کے حصول کے لیے پارٹیاں تبدیل کرتی نظر آتی ہیں۔
آزاد کشمیر کے عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے بنیادی مسائل کا شکار ہیں۔ صحت، تعلیم، روزگار، سڑکوں کی خستہ حالی، بجلی کی لوڈشیڈنگ، پینے کے صاف پانی کی قلت اور نوجوانوں میں بڑھتی بے روزگاری ایسے مسائل ہیں جنہوں نے عام آدمی کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ دیہی علاقوں میں آج بھی بنیادی طبی سہولیات میسر نہیں، کئی علاقوں میں تعلیمی ادارے اساتذہ سے محروم ہیں جبکہ پڑھے لکھے نوجوان روزگار نہ ملنے کے باعث مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ان مسائل پر سنجیدہ مکالمہ کرنے کے بجائے سیاسی جماعتیں صرف “الیکٹ ایبلز” کو اپنی طرف شامل کرنے میں مصروف ہیں۔
انتخابات کے دوران عوام سے بڑے بڑے وعدے کیے جاتے ہیں۔ ترقی، خوشحالی، میرٹ، احتساب اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کے نعرے لگائے جاتے ہیں، مگر اقتدار میں آنے کے بعد یہی وعدے فائلوں اور بیانات تک محدود ہو کر رہ جاتے ہیں۔ عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر سیاسی رہنما واقعی عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار ہیں تو پھر ہر انتخاب سے قبل جماعتیں کیوں تبدیل کرتے ہیں؟ کیا نظریات، منشور اور عوامی اعتماد کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی؟
سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کا یہ رجحان دراصل جمہوریت کو کمزور کرتا ہے۔ جمہوریت صرف ووٹ لینے کا نام نہیں بلکہ اصول، نظریات اور عوامی اعتماد کی پاسداری کا نام ہے۔ جب ایک سیاستدان عوام سے کسی جماعت کے ٹکٹ پر ووٹ لے کر منتخب ہو اور پھر ذاتی مفاد کے لیے دوسری جماعت میں شامل ہو جائے تو یہ دراصل عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے۔ اس سے نوجوان نسل میں سیاست کے حوالے سے منفی سوچ جنم لیتی ہے اور عوام کا جمہوری عمل سے اعتماد اٹھنے لگتا ہے۔
بدقسمتی سے آزاد کشمیر کی سیاست میں خاندانی اور برادری ازم بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ کئی علاقوں میں کارکردگی کے بجائے برادری، ذاتی تعلقات اور مالی اثرورسوخ کی بنیاد پر سیاست کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حقیقی عوامی نمائندے اکثر منظرنامے سے غائب رہتے ہیں جبکہ سرمایہ دار اور بااثر شخصیات ہر دور میں اقتدار کے قریب دکھائی دیتی ہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو عوامی مسائل کبھی حل نہیں ہو سکیں گے۔
اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ آزاد کشمیر کی سیاست کو نظریات، عوامی خدمت اور شفافیت کی بنیاد پر استوار کیا جائے۔ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ صرف الیکٹ ایبلز کے پیچھے بھاگنے کے بجائے ایسے امیدوار سامنے لائیں جن کا ماضی صاف ہو، جو عوامی مسائل سے آگاہ ہوں اور جو اقتدار نہیں بلکہ خدمت کو ترجیح دیتے ہوں۔ اسی طرح عوام کو بھی چاہیے کہ وہ بار بار وفاداریاں تبدیل کرنے والے سیاستدانوں سے سوال کریں اور ووٹ دیتے وقت شخصیت کے بجائے کارکردگی اور کردار کو ترجیح دیں۔
میڈیا اور سول سوسائٹی کا کردار بھی اس حوالے سے انتہائی اہم ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ صرف سیاسی جوڑ توڑ اور پارٹی تبدیلیوں کو نمایاں کرنے کے بجائے عوامی مسائل کو قومی بحث کا حصہ بنائیں۔ جب تک سیاستدانوں کو عوامی مسائل پر جوابدہ نہیں بنایا جائے گا، تب تک سیاسی وفاداریاں بدلنے کا یہ کھیل جاری رہے گا۔
آزاد کشمیر کے عوام باشعور ہیں اور اب وہ محض نعروں سے مطمئن نہیں ہوں گے۔ عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کے ووٹ کی طاقت ہی اصل تبدیلی لا سکتی ہے۔ اگر ووٹر اپنے حقِ رائے دہی کو سوچ سمجھ کر استعمال کریں اور صرف خدمت، دیانت اور کارکردگی کو معیار بنائیں تو سیاسی جماعتیں بھی مجبور ہوں گی کہ وہ سنجیدہ اور باصلاحیت قیادت کو آگے لائیں۔
یہ وقت آزاد کشمیر کی سیاست میں سنجیدہ احتساب، سیاسی شعور اور جمہوری اقدار کے فروغ کا ہے۔ اگر سیاسی وفاداریاں بدلنے کی روایت کو نہ روکا گیا اور عوامی مسائل کو مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا تو جمہوریت کمزور اور عوام مزید مایوسی کا شکار ہوتے جائیں گے۔ ایک مضبوط، باوقار اور ترقی یافتہ آزاد کشمیر کے لیے ضروری ہے کہ سیاست کو ذاتی مفادات کے بجائے عوامی خدمت کا ذریعہ بنایا جائے۔