گلگت بلتستان،ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد،یکساں ترقی سب کا حق ہے ،وزیراعظم

گلگت (پی این ایچ)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت تمام صوبوں اور علاقوں کو یکساں ترقی کیلئے ساتھ لے کر چلنے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پسماندہ علاقوں میں بھی ایچی سن کے معیار کی تعلیمی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جہاں ہونہار بچے مفت تعلیم حاصل کر رہے ہیں، گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ شمسی توانائی کا منصوبہ آئندہ سال مکمل ہو جائیگا، میرٹ پر لیپ ٹاپس کی فراہمی سے نوجوان اپنے پائوں پر کھڑے ہونے کے قابل ہوں گے، پاکستان نے امریکہ ایران جنگ رکوانے اور خطے میں امن کیلئے جو کردار ادا کیا تاریخ اسے یاد رکھے گی، قیام پاکستان کے بعد سے آج وہ موقع آیا ہے خیبر سے کراچی تک پوری قوم متحد ہے۔ وہ جمعرات کو یہاں شمسی توانائی کے منصوبوں، دانش سکولوں کے سنگ بنیاد، سیف سٹی گلگت اور سیف سٹی سکردو کے افتتاح، مفت سولر پینلز کی تقسیم، وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت طلبا میں لیپ ٹاپس کی تقسیم اور وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت کاروباری اور زرعی قرضوں کے چیکس تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر وفاقی وزرا انجینئر امیر مقام، عطاء اللہ تارڑ، اویس لغاری، عبدالعلیم خان ، گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ اور نگران وزیراعلیٰ گلگت بلتستان جسٹس (ر) یار محمد کے علاوہ وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ اور چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان، بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج انہیں ایک بار پھر گلگت بلتستان آ کر خوشی محسوس ہو رہی ہے، یہ نہ صرف خوبصورت علاقہ بلکہ قابل محنتی اور ہونہار طلبا و طالبات کا خطہ ہے جو پاکستان کا فخر ہیں۔ انہوں نے محنت سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبا و طالبات کے والدین اور اساتذہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ طلبا میں لیپ ٹاپس کی تقسیم نہ صرف ان کی تعلیمی قابلیت کا اعتراف ہے بلکہ اس کے ذریعے وہ اپنے پائوں پر کھڑے ہونے کے قابل ہوں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ 1997ء میں جب مجھے میرے قائد محمد نواز شریف اور میری جماعت مسلم لیگ (ن) نے پنجاب کا خادم اعلیٰ مقرر کیا تب سے آج تک میں نے میرٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور اس وقت میرٹ کو سکہ رائج الوقت بنایا جب کوئی اس تصور سے آشنا نہیں تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملکی ترقی کیلئے محنت، امانت اور دیانت کو اپنا شعار بنانا ہو گا، ایچی سن کے معیار کی تعلیم دانش سکولوں میں فراہم کی جا رہی ہے، مجھ پر بڑی تنقید ہوئی کہ سرکاری سکولوں کو ٹھیک کرنے کی بجائے دانش سکولوں پر پیسہ خرچ کیا جا رہا ہے لیکن آج ہزاروں طلباء و طالبات ان سکولوں سے پڑھ کر ڈاکٹرز، انجینئرز بن چکے اور غیر ملکی یونیورسٹیوں میں بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اگر امرا کے بچے ایچی سن میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکتے ہیں تو ہونہار طلبا و طالبات کو مفت تعلیم کے مواقع کیوں نہیں مل سکتے۔ وزیراعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان کے چاروں دانش سکولوں کی طالبات کیلئے نہ صرف تعلیم مفت ہو گی بلکہ کتابیں، یونیفارم، کھانا بھی مفت فراہم کیا جائیگا اور سمارٹ بورڈز، ای ـلائبریری سمیت جدید تعلیمی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اقتدار میں آتے ہی گلگت بلتستان میں شمسی توانائی کے منصوبے پر کام شروع کیا، 100 میگاواٹ کا منصوبہ آئندہ سال مکمل ہو گا، شفاف اور ڈیجیٹل قرعہ اندازی کے ذریعے 15 ہزار گھرانوں میں مفت سولر پینلز تقسیم کئے جائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سب کا سانجھا ہے، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت ترقی کے عمل میں سب کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا، اس کیلئے جو بھی وسائل میسر ہوئے عوام کے قدموں پر نچھاور کریں گے۔ وزیراعظم نے ایران اور امریکا کے مابین جنگ بندی کیلئے پاکستان کے کلیدی کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بھائی اور ہمسائے کی حیثیت سے خطے میں امن کیلئے جو کردار ادا کیا تاریخ اسے بیان کرے گی، پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت دن رات امریکا اور ایران سے رابطہ میں رہی اور جنگ بندی کرائی۔ انہوں نے دیرپا جنگ بندی اور امن کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد آج 78 سال بعد یہ موقع آیا ہے کہ خیبر سے کراچی تک خطے میں امن اور جانیں بچانے کیلئے پوری قوم متحد ہے۔ وزیراعظم نے جنگ بندی اور امن کیلئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ تاریخ انہیں ہمیشہ یاد رکھے گی۔ قبل ازیں وزیراعظم نے ہونہار طلباء و طالبات میں لیپ ٹاپس اور بزنس اور یوتھ پروگرام کے تحت نوجوانوں میں چیک تقسیم کئے۔ وزیراعظم نے سلطان آباد، گانچھے، استور سمیت گلگت بلتستان میں چار دانش سکولوں کا سنگ بنیاد رکھا۔ انہوں نے سیف سٹی گلگت اور سیف سٹی سکردو اور شمسی توانائی کے منصوبوں کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔ اس موقع پر وزیراعظم کو گلگت بلتستان کے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ غریب ترین بچوں کو مفت تعلیم کی فراہمی یقینی بنائی جائے، اساتذہ کا انتخاب مقامی سطح پر اور 100 فیصد میرٹ پر کیا جائے، لڑکے اور لڑکیوں کیلئے الگ الگ سکول بنائے جائیں جہاں سمارٹ بورڈز، لیپ ٹاپس، ایـلائبریریز کے علاوہ سپورٹس کی جدید سہولیات بھی فراہم کی جائیں، یہ پاکستان کی بہترین تعلیم گاہیں ہونی چاہئیں۔ وزیراعظم نے سیف سٹی منصوبوں کا معیار بھی پنجاب کی طرز پر یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ سیف سٹی منصوبوں کے تحت 385 جدید ترین کیمرے نصب کئے جائیں گے۔ وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ہمیشہ گلگت بلتستان کو بڑے تحفے دیئے ہیں، دانش سکولز جن کا آغاز پنجاب سے شہباز شریف نے کیا تھا آج پورے پاکستان میں کھل رہے ہیں جہاں غریب بچے ایچی سن کے معیار کی تعلیم مفت حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ خدمت اور میرٹ کی سیاست کی ہے۔ وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے کہا کہ جب نواز شریف وزیراعظم تھے تو وہ بھی گلگت بلتستان کیلئے بڑے منصوبے لے کر آتے تھے، آج شہباز شریف بھی بڑے ترقیاتی منصوبے لے کر آئے ہیں۔ وفاقی وزیر بجلی اویس لغاری نے کہا کہ 32 ارب روپے کی لاگت سے قابل تجدید و شمسی توانائی منصوبے سے 13 لاکھ لوگ مستفید ہوں گے، ہر ضلع کو اس کی آبادی کے تناسب سے منصوبے میں شامل کیا گیا ہے اور بیٹری سسٹم کی تنصیب بھی اس منصوبے کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کیلئے چین سے برآمدات پر اربوں روپے کی ٹیکس چھوٹ بھی حکومت کا علاقہ کے عوام کیلئے بہت بڑا تحفہ ہے۔ چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے تینوں ڈویڑنز میں 82 میگاواٹ کے سولر پارکس بنائے جائیں گے جبکہ سولر پینلز کی تقسیم کیلئے 50 ہزار درخواستوں میں سے 15 ہزار کا میرٹ پر انتخاب کیا گیا ہے۔ سلطان آباد، بونجی، گانچھے اور سکردو میں چار دانش سکول تعمیر کئے جا رہے ہیں، سکردو میں دانش سکول کے کام کا آغاز 21 اپریل کو ہو چکا ہے جبکہ بونجی اور گانچھے میں تقریباً 50 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، سیف سٹی کا منصوبہ بھی شہباز شریف کا وڑن تھا جو انہوں نے پنجاب میں بطور وزیراعلیٰ شروع کیا تھا، اب گلگت بلتستان میں بھی اسی معیار کا سیف سٹی ہو گا۔ تقریب میں ہونہار طلبا و طالبات کے اعزاز میں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔