اسلام آباد(پی این ایچ) وزیراعظم کے معاون خصوصی سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ سٹیبلشمنٹ اور حکومت نے بانی پی ٹی آئی کو کوئی ڈیل آفر نہیں کی ، نہ ڈیل ہوئی نہ ہوگی۔نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اس بات پر بیٹھے ہیں کہ آپ یہاں آکر بیٹھ جائیں مجھے وہاں بٹھادیں، میں نے جو بات کہی ہے وہی عطاتارڑ نے کہی ہے، 24نومبر کو پی ٹی آئی کیساتھ ایک بات ہوئی تھی ، اس بات کو ڈیل کاد رجہ دیاجائے تو وہ علیحدہ بات ہے۔انہوں نے کہا کہ24نومبر کو جو بات ہوئی اس کی تردید محسن نقوی نے بھی نہیں کی ،فیصل واوڈا کے الفاظ اپنے ہیں انہوں نے بات کو ذرا سا بڑھا چڑھا دیا ہے۔وزیراعظم کے مشیر نے واضح کہا اسٹیلشمنٹ اور حکومت نے کوئی ڈیل آفر کی ،نہ ہوئی اور نہ ہوگی ، وزیراعظم تو ان کو تین بار مذاکرات کی آفر کرچکے ہم تیار ہیں یہ بیٹھیں۔انہوں نے بتایا کہ علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ بانی پاکستان کیلئے بیٹھنے کو تیار ہیں، بانی پی ٹی آئی اگر پاکستان کیلئے بیٹھنے کو تیار ہیں تو آئیں بیٹھیں ،آئیں دہشت گردی کے خاتمے اورمعاملات کو حل کرنے کیلئے بیٹھیں۔راناثنا نے کہا کہ نومبر میں یہ طے ہوگیا تھا کہ اسلام آباد کا گھیرا یا ڈی چوک نہیں جائیں گے اور یہ طے ہوگیا تھا کہ سنگجانی جاکر بیٹھیں گے، اس کی تصدیق علی امین گنڈاپور سے کرالیں ، محسن نقوی بھی تائید کریں گے کہ بانی نے اتفاق کیا پھر دوسری سوچ ان کو آئی تو انکار کردیا،اس کے بعد بشری بی بی نے کہا کہ ہمیں ڈی چوک ہی جانا ہے ،محسن نقوی اس وقت بات کررہیتھے لیکن اسپیکر قومی اسمبلی بھی آن بورڈ تھے ، میں بھی ایک دو میٹنگ میں تھا ، اسدقیصر ،بیرسٹرگوہر ،عامر ڈوگربھی موجود تھے۔سیاسی مشیر نے کہا کہ بانی کی آنکھ کامعاملہ آیا تو پی ٹی آئی کی قیادت ہم سے رابطے میں رہی ہے اس کو ڈیل نہیں کہہ سکتے، بانی کی آنکھ کا علاج طریقہ کار کے تحت ہوا اب وہ کہتے ہیں ہماری تسلی کے مطابق نہیں ہوا۔انہوں نے بتایا کہ محسن نقوی ہماری کابینہ کا حصہ ہیں وہ ممبر ہیں ، بانی کے علاج کے معاملے پرمحسن نقوی کی علی امین یا سہیل آفریدی سے ہورہی تھی ، بانی کے علاج کے حوالے سے ان کے رہنمائوں کی میٹنگ ہمارے ساتھ ہورہی تھیں ، یہ بات میں نے اور لوگوں نے میٹنگ میں بھی کی کہ ملاقاتوں سے سیاست بند کریں۔راناثنا نے کہا کہ بانی سے ملاقاتوں کے بعد میڈیا پر کمنٹری اور ٹوئٹس بند کریں ، ریاست یا اداروں کیخلاف بیانیہ بند کریں تو ملاقاتوں کا مسئلہ حل ہوسکتاہے، بانی سے ملاقاتوں کیلئے ان سے کچھ بات کی جائے تو اسے ڈیل تونہیں کہا جاسکتا۔انہوں نے انکشاف کیا ملاقاتوں کا مسئلہ حل ہونے کو تھا توعظمی خان نے ملاقات کے بعد بات کی پھر ٹوئٹ ہوا تومعاملہ خراب ہوا۔رہائی فورس کے حوالے سے سیاسی مشیر نے کہا کہ رہائی فورس کو میں 8فروری کو پہیہ جام ہڑتال کی ناکام کال کی طرح دیکھتاہوں ، 8 فروری کی کال کی طرح رہائی فورس مکمل فیلئر ہے ان کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، کوئی فورس نہیں ہوگی یہ چاہتے ہیں کسی نا کسی طرح لوگوں کو ابہام میں رکھاجائے۔انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں 8فروری کی کال سے ان کو سیاسی طور پر بہت نقصان پہنچا ہے ، یہ جو ملک کو مزید نقصان پہنچانا چاہتے ہیں اس میں یہ کامیاب نہیں ہوں گے۔
بانی پی ٹی آئی کو ڈیل آفر ہوئی نہ کبھی ہوگی، رانا ثنااللہ
