لاہور( پی این ایچ)صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت بالائی علاقوں میں گرمی کی شدت مزید بڑھ گئی جس کی وجہ سے بجلی کی طلب میں بھی اضافہ ہو گیا ، ملک بھر میں غیر لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے ، بجلی کی بندش سے پانی کی قلت بھی پیدا ہونا شروع ہو گئی ۔ملک بھر میں توانائی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے ۔پاور ڈویژن ذرائع کے مطابق ملک میں بجلی کا شارٹ فال 5ہزار 726میگا واٹ تک پہنچ گیا ہے، بجلی کی پیداوار 14ہزار 274میگاواٹ جبکہ بجلی کی طلب 20ہزار میگاواٹ ہے۔ملک میں پن بجلی کی پیداوار 1ہزار 530میگاواٹ، تھرمل پیداوار 7ہزار 814میگاواٹ ہے۔اس کے علاوہ ملک میں سولر پیداوار 450میگا واٹ، ونڈ انرجی کی پیداوار ایک ہزار 490میگاواٹ، نیوکلیئر پیداوار 2ہزار 890میگا واٹ ہے جبکہ بیاس پاور پلانٹ 100میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں۔دوسری جانب پاکستان میں ایل این جی امپورٹ صفر ہونے سے ایل این جی پاور پلانٹس سے بجلی کی پیداوار رک گئی ہے۔ذرائع کے مطابق حویلی بہادر شاہ، بھیکی اور نندی پور پاور پلانٹس سے بجلی کی پیداوار نہ ہونے کے برابر ہے، ساہیوال پل پاور پلانٹ کی پیداوار بھی تقریباً بند ہے، 969میگا واٹ نیلم جہلم بند، پن بجلی منصوبے سے بھی بجلی پیدا نہیں ہو رہی۔ذرائع کے مطابق ٹرانسمیشن لائنز بھی مکمل صلاحیت سے بجلی ترسیل کرنے سے قاصر ہے، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کا سسٹم بھی اوور لوڈڈ ہے۔ذرائع کے مطابق شارٹ فال بڑھنے سے مختلف شہری علاقوں میں6سے8جبکہ دیہی علاقوں میں10سے12گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے ۔ بجلی کی بندش کی وجہ سے ٹیوب ویلز چلنے کا شیڈول بھی متاثر ہو رہا ہے جس کی وجہ سے پانی کی بھی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے اور لوگوں کو پینے کے پانی کے حصول میں بھی مشکلات درپیش ہیں۔خیبرپختونخوا میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن جاری ہے جس سے صوبے کے عوام کو شدیدمشکلات کاسامناہے اور ان کے صبرکاپیمانہ بھی لبریز ہوگیاہے۔اس صورتحال کے حوالے سے بجلی کی تقسیم کارکمپنی پیسکوکے ترجمان نے کہا ہے کہ بجلی کی پیداوار میں شارٹ فال کے باعث یہ اقدام اٹھایا گیا ہے،جبری لوڈ مینجمنٹ کا مقصد خام تیل سے پیدا ہونیوالی بجلی کے اضافی بل سے صارفین کو بچانا ہے، گزشتہ کچھ عرصے میں بین الاقوامی صورتحال کے پیش نظر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس کے اثرات بجلی پیداوار پر بھی پڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنریشن شارٹ فال کے باعث بجلی کی طلب میں اضافہ جبکہ سپلائی میں کمی واقع ہوئی ہے، اسوقت پیسکو کی مجموعی طلب 2000میگاواٹ ہے جبکہ سپلائی 1351میگاواٹ تک محدود ہے جس کے باعث طلب اور رسد میں واضح فرق پیدا ہو گیا ہے،اسی فرق کی وجہ سے شیڈول کے علاوہ 3سے 4گھنٹے اضافی لوڈ مینجمنٹ بھی کی جا رہی ہے، کوشش کر رہے ہیں کہ کم سے کم لوڈ مینجمنٹ کی جائے تاکہ صارفین کو زیادہ پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ترجمان نے کہا کہ جیسے ہی جنریشن شارٹ فال ختم ہوگا فورسڈ لوڈ مینجمنٹ بھی ختم کر دی جائیگی، صارفین بجلی سے متعلق کسی بھی شکایت کی صورت میں 118پر کال کریں۔
شارٹ فال بھی 5700میگا واٹ سے تجاوز کر گیا ،بدترین لوڈشیڈنگ
