پرامید ہیں جلد امن قائم ہو جائیگا،شہبازشریف

اسلام آباد (پی این ایچ)وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایران اور امریکہ کو مذاکرات کی میز پر بٹھایا، انہوں نے شبانہ روز جنگ بندی کی کوشش کی، فیلڈ مارشل کی ان کاوشوں کو تاریخ سنہری حروف میں یاد رکھے گی۔ اسلام آباد میں بین الاقوامی پیغامِ اسلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ان مذاکرات میں نہایت شاندار کردار ادا کیا، اور اس سے بڑھ کر میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا خاص طور پر ذکر کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے فریقین کو جنگ بندی اور مذاکرات کی میز پر بٹھانے میں اہم کردار ادا کیا اور انہیں قائل کیا، میں اس بات کا بھی گواہ ہوں کہ انہوں نے شبانہ روز بھرپور کوششیں کیں جو کہ ابھی تک جاری ہیں، اور تاریخ انشاء اللہ ان کاوشوں کو ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھے گی۔شہباز شریف کہتے ہیں کہ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ 1979ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی اور ایرانی قیادت آمنے سامنے یہاں پر اسلام آباد میں بیٹھی اور گفتگو کی، میں سمجھتا ہوں کہ یہ وہ ایک ادنیٰ سی خدمت ہے جو پاکستان نے عالم اسلام کے لیے اور دنیا کے امن کے لیے یہ خدمت انجام دی اور اسے نہایت تدبر، حکمت اور جوش اور ولولے اور اللہ تعالیٰ کے بے پایاں فضل و کرم کے ساتھ پختہ عزم کے ساتھ یہ بات چیت کے دروازے کھولے، مجھے پورا یقین ہے کہ انشاء اللہ یہ بات چیت دیرپا امن میں جلد بدلے گی اور اس خطے میں امن قائم ہوگا اور مزید جانیں ضائع نہیں ہوں گی۔ان کا کہنا ہے کہ میں اپنے انتہائی پیارے بھائی، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے امن مذاکرات کے لیے بھرپور کردار ادا کیا، جب کہ پاکستان فلسطین اور کشمیر پر اپنے اصولی موقف پر قائم ہے۔ پاکستان فلسطینوں اور کشمیریوں کی آزادی تک ان کا ساتھ دیتا رہے گا، پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ایک ہے۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے آبنائے ہرمز میں ”پروجیکٹ فریڈم” کو عارضی طور پر روکنے کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ یہ پیش رفت ایک ایسے پائیدار معاہدے کی راہ ہموار کرے گی جو خطے اور اس سے باہر دیرپا امن و استحکام کو یقینی بنائے گا۔ بدھ کو ایکس پر اپنے پیغام میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے جرات مندانہ قیادت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں ”پروجیکٹ فریڈم” کو عارضی طور پر روکنے کے حوالے سے بروقت اعلان کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان اور دیگر برادر ممالک خصوصاً سعودی عرب اور میرے برادر عزیز ولی عہد ووزیراعظم محمد بن سلمان کی درخواست پر مثبت اور فراخدلانہ ردعمل اس نازک وقت میں خطے میں امن، استحکام اور مفاہمت کے فروغ میں بہت معاون ثابت ہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اس عزم پر قائم ہے کہ وہ تحمل، مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے پرامن حل کو فروغ دینے والی تمام کوششوں کی مکمل حمایت جاری رکھے گا، ہم پر امید ہیں کہ موجودہ پیش رفت ایک ایسے پائیدار معاہدے کی راہ ہموار کرے گی جو خطے اور اس سے باہر دیرپا امن و استحکام کو یقینی بنائے گا۔واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پھنسے بحری جہازوں کو نکالنے کے لیے پروجیکٹ فریڈم عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا تھا۔ایک بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ میں یہ اعلان ایران کے ساتھ اتفاقِ رائے کے بعد کر رہا ہوں، ایران کے ساتھ مکمل اور حتمی معاہدے کے لیے بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔