ایٹمی طاقت رہتی دنیا تک ہمارا دفاعی اثاثہ ہے،شہباز شریف

اسلام آباد (پی این ایچ)وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک کو ایٹمی طاقت بنانے والے تمام ہیروز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی ایٹمی طاقت رہتی دنیا تک ہمارا دفاعی اثاثہ ہے۔وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ 10 مئی کو پوری قوم نے معرکہ حق کی سالگرہ شایان شان طریقے سے منائی۔ اللہ تعالی نے اپنے بے پایاں فضل و کرم سے پاکستان کو وہ فتح و نصرت اور عزت و وقار عطا فرما یا جو قومی یکجہتی اور اتحاد و اتفاق کا نتیجہ تھا،پوری قوم اس معرکے میں یک جان دو قالب تھی۔ انہوںنے کہاکہ افواج پاکستان نے جوان مردی سے دشمن کو وہ سبق سکھایا جو اسے رہتی دنیا تک یاد رہے گا، اب 28 مئی کی آمد آمد ہے ، تاریخ اس دن کو ہمیشہ یاد رکھے گی، پاکستان کا ایٹمی پروگرام رہتی دنیا تک اسکا دفاعی اثاثہ رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ہمیشہ یہ سوچ اور قومی بیانیہ رہا ہے کہ ہمارا ایٹمی پروگرام دفاعی مقاصد کیلئے ہے ، جارحیت کیلئے نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ دنیا آج پاکستان کو ایک ذمے دار ایٹمی طاقت کے طور پر جانتی ہے ۔ انہوں نے ملک کو ایٹمی طاقت بنانے والے سائنسدانوں ، سیاست دانوں، اداروں اور حکومتوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو اس پروگرام کے بانی تھے اور میرے قائد نواز شریف نے اسے نکتہ انجام تک پہنچایا ۔ وزیر اعظم نے اس سلسلے میں تمام ہیروز کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کے بعد اب ہمیں معاشی طاقت بننا ہے جس کیلئے ہم ایک ٹیم کی صورت میں ملکر دن رات کوشاں ہیں اور ان کوششوں کے نتائج آہستہ آہستہ سامنے آرہے ہیں ،یہ دشوار گزار اور لمبا سفر ہے لیکن جو قومیں مشکلات اور چیلنجز سے نمٹنے کا فیصلہ کرلیتی ہیں کامیابی انکا مقدر ہوتی ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ خطے میں جنگ سے تمام معیشتوں کو مسائل کا سامنا ہے ۔ فی الحال عارضی جنگ بندی ہے، پاکستان میں صورتحال خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہتر رہی ہے ، یہاں اس طرح قطاریں نہیں لگیں، سب نے ملکر صورت حال سے بہتر انداز میں نمٹنے کیلئے کام کیا۔ وزیر اعظم نے دہشت گرد کو روکتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والے ریلوے ملازم لیاقت کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ قوم کے ہیروز ہیں۔انہوںنے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف جو قربانیاں پاکستان کی مسلح افواج ، سکیورٹی فورسز ، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور شہری دے رہے ہیں دنیا کی تاریخ میں اسکی مثال نہیں ملتی۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں شہدا کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی دوسری جانب وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر ہاسنگ کے شعبے میں اصلاحات کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کم آمدنی والے طبقے کے لیے رہائش کی فراہمی، سستے گھروں کے منصوبے بشمول نجی شعبے کی حوصلہ افزائی اور عوامی سہولیات کی بہتری ہماری ترجیحات میں شامل ہیں، او ر شعبے میں شفافیت کے فروغ کے لئے تمام معاملات کو و ڈیجیٹائز اور آٹو میٹ کیا جائے گا ۔وہ جمعرات کو اپنی زیر صدارت ہاسنگ کے شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے جائزہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر ہاسنگ اینڈ ورکس میاں ریاض حسین پیر زادہ ، وفاقی وزیر داخلہ و انسداد منشیات محسن نقوی ، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ ، وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی روابط رانا ثنا ء اللہ ، وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی ، چئیرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ)نذیر احمد بٹ، اٹارنی جنرل منصور اعوان اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر ہائوسنگ کے شعبے میں اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور شہروں کے بے ہنگم پھیلا کی وجہ سے زرعی زمین پر دباو بڑھ رہا ہے جس کے لئے مناسب حکمت عملی کی ضرورت ہے ،ہائوسنگ کے شعبے میں تمام معاملات کو ڈیجیٹائز اور آٹو میٹ کیا جائے گا تاکہ شفافیت کو فروغ ملے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہائوسنگ سیکٹر میں بیرون ملک سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لئے اس سیکٹر کو ضابطہ کار کے تحت لانا ضروری ہے۔ اجلاس کے دوران ہاسنگ سیکٹر میں اصلاحات کے حوالیسے تجاویز پیش کی گئیں۔ اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ہاسنگ کے شعبے میں شفافیت لانے کے حوالے سے معتبر سرمایہ کاروں اور ڈویلپرز کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے ریگولیٹری فریم ورک سہل بنایا جائیگا ۔ ہائوسنگ اور ڈیویلپمنٹ سیکٹر میں کام کرنے والوں کے لئے ایس ای سی پی، میں رجسٹریشن لازمی قرار دی جانی چاہئے۔ شہروں کے بے ترتیب پھیلا کو روکنے کے حوالے سے بھی حکمت عملی بنائی جائے گی۔ بریفنگ کے مطابق بڑے شہروں میں اونچی عمارتوں اور ورٹیکل ایکسپینشن کی حوصلہ افزائی کی جائے گی ۔ بریفنگ میں بڑے شہروں کے لئے ماسٹر ٹان پلاننگ کی تجویز دیتے ہوئے کہا گیا کہ ڈویلپرز، خریداروں اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ون ونڈو سسٹم قائم کیا جانا چاہیئے ۔ وزیراعظم نے ان تجاویز کے حوالے سے صوبوں کے ساتھ مشاورت کی بھی ہدایت کی۔