مرکزی سیکرٹری جنرل کسی اور صوبے سے لانے کی تجویز دی ہے’رانا ثناء اللہ

لاہور (پی این ایچ) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما و وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ پارٹی صدر نواز شریف کی جانب سے پارٹی کا مرکزی سیکرٹری جنرل بننے کی پیشکش کی گئی ہے لیکن میں اس عہدے کے لیے تیار نہیں ہوں ،نواز شریف کو تجویز دی ہے کہ پارٹی کا مرکزی سیکرٹری جنرل پنجاب کے علاوہ کسی اور صوبے سے ہونا چاہیے، پارٹی صدر بھی پنجاب سے ہو اور مرکزی سیکرٹری جنرل بھی پنجاب سے ہو یہ ٹھیک نہیں ہے، اس عہدے پر تبدیلی لائے جائے۔ ایک انٹر ویو میں انہوں نے بتایا کہ پارٹی کی قیادت کو یہ بھی تجویز دی ہے کہ حمزہ شہباز پنجاب کے صدر بننے کے لیے موزوں امیدوار ہیں اور انہیں مسلم لیگ(ن) پنجاب کا صدر بنایا جائے۔مشیر وزیر اعظم رانا ثنا اللہ بتایا کہ میں نے تجویز دی ہے کہ پنجاب کے حد تک نئی تنظیم سازی کی جائے، پنجاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے، جنوبی پنجاب، وسطحی پنجاب کا الگ سے پارٹی صدر ہو اور وسطی پنجاب میں الگ سے تاکہ منظم طریقے سے پارٹی کو چلایا جا سکے۔ ڈویژن اور ضلعی صدور کو تبدیل کیا جائے اور تمام عہدوں کی مدت 5 سال کی جائے تاکے جس سطح پر عہدے دئیے جائیں وہاں پر کام ہو سکے۔انہوں نے بتایا کہ اگر پارٹی نے مجھے مرکزی جنرل سیکرٹری بنایا تو میں قائمقام سیکرٹری جنرل بنوں گا کیونکہ میں وفاق میں بہت مصروف ہوں ،پارٹی کا اگر مرکزی سیکرٹری جنرل مجھے بنایا گیا تو میرے لیے پنجاب میں بیٹھنا بہت ضروری ہوگا، حمزہ شہباز شریف پنجاب کے صدر کے لیے بہترین چوائس ہیں اگر وہ مان جائیں تو یہ پارٹی کے لیے بہت اچھا ہوگا، پارٹی کے لوگوں کے جو مسائل ہیں وہ با آسانی حل ہو سکیں گے۔میاں نواز شریف کی طرف سے پارٹی کے اعلی عہدوں پر تبدیلیوں کا فیصلہ جلد ہی پارٹی اجلاس میں متوقع ہے۔