اسلام آباد(پی این ایچ)معرکہ حق میں دفاعی و سفارتی محاذ پر پاکستان کی تاریخی کامیابی نے عالمی سطح پر ملک کو امن کے ایک بااعتماد علمبردار کے طور پر منوایا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ماہرین، وکلا اور یوتھ ایکٹوسٹ نے کشمیر میڈیا سروس اور جموں و کشمیر لبریشن سیل کے زیر اہتمام منعقدہ ایک خصوصی ڈیجیٹل اسپیس میں کیا، جس کا عنوان معرکہ حق کے تناظر میں نفسیاتی جنگ اور قومی مورال تھا۔ اس نشست کی میزبانی انچارج ڈیجیٹل میڈیا جموں و کشمیر لبریشن سیل نجیب الغفور خان نے کی، جبکہ پینل میں سردار بلال شکیل ایڈووکیٹ، معروف یوتھ ایکٹوسٹ قرات العین خواجہ، معاذ خان، آمنہ اسحاق عباسی اور صحافی محمد ہارون عباس سمیت دیگر اہم شخصیات شریک تھیں۔نشست کا آغاز کرتے ہوئے میزبان نجیب الغفور خان نے موضوع کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ معرکہ حق محض ایک دفاعی آپریشن نہیں تھا بلکہ یہ دشمن کے اس ففتھ جنریشن وارفیئر کا جواب تھا جس کا مقصد پاکستانی قوم کے اعصاب کو توڑنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نفسیاتی جنگ میں فتح کا دارومدار صرف اسلحے پر نہیں بلکہ قوم کے اپنے نظریے اور ریاست پر غیر متزلزل یقین پر ہوتا ہے۔مقررین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے محض عسکری میدان میں برتری حاصل نہیں کی بلکہ بیانیہ کی جنگ میں بھی دشمن کو دھول چٹا دی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی برادری اب پاکستان کو ایک ذمہ دار اور پرامن ریاست کے طور پر دیکھ رہی ہے۔اس عظیم فتح نے پاکستانی شناخت، سبز ہلالی پرچم اور پاسپورٹ کی قدر و منزلت میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیانیہ کی مضبوطی ہی وہ طاقت ہے جو کسی بھی ملک کے عسکری مقام کو سفارتی سطح پر مستحکم کرتی ہے، جس کی بدولت آج بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند ہوا ہے۔نشست میں معرکہ حق کو منانے اور اس کے ثمرات عوام تک پہنچانے میں نوجوانوں کے کلیدی کردار کو سراہا گیا۔ قرات العین خواجہ کا کہنا تھا کہ نئی نسل نے نہ صرف زمین پر اس فتح کا جشن منایا بلکہ ڈیجیٹل دنیا میں بھی پاکستان کے مقدمے کی بھرپور وکالت کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سوشل میڈیا محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ ایک جدید بیٹل گرانڈ ہے جہاں ہر نوجوان ایک سپاہی کی طرح پاکستان کے دفاع کی صلاحیت رکھتا ہے۔مقررین نے اتفاق کیا کہ بھارتی پروپیگنڈا مشینری کا توڑ کرنے کے لیے نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل مہارتوں اور انفارمیشن ویریفیکیشن کے اصولوں سے لیس ہونا ہوگا تاکہ دشمن کی ڈیپ فیک اور جھوٹی اطلاعات کا حقائق سے جواب دیا جا سکے
معرکہ حق دشمن کے ففتھ جنریشن وارفیئر کا جواب تھا،مقررین
