پشاور‘ میٹرک کا پرچہ لیک ہونے پرسرکاری سکولوں کے 17 اساتذہ معطل کئے گئے

کوہاٹ(پی این ایچ)محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبرپختونخوا نے میٹرک کے جاری سالانہ امتحانات کے دوران پرچہ لیک ہونے کے معاملے پر سخت کارروائی کرتے ہوئے پشاور کے تین امتحانی مراکز میں تعینات 17 اساتذہ کو معطل کر دیا، جن میں چھ خواتین اساتذہ بھی شامل ہیں۔اتوار کو جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ کارروائی بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پشاور کی رپورٹ کی روشنی میں کی گئی، جس میں میٹرک امتحان کے ملٹی پل چوائس سوالات (MCQs) کے لیک ہونے میں تدریسی عملے کے مبینہ ملوث ہونے کی نشاندہی کی گئی تھی۔اعلامیے کے مطابق مجاز اتھارٹی، سیکرٹری محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم، نے فوری طور پر تین امتحانی مراکز میں ڈیوٹی انجام دینے والے سرکاری سکولوں کے 17 اساتذہ کو 120 روز کے لیے معطل کرنے کے احکامات جاری کیے۔معطل کیے گئے خواتین اساتذہ میں امتحانی مرکز نمبر 89 کی مس نگاہ سلطانہ، انعم صادق، رقیہ، رخسانہ قدوس، آمنہ بی بی اور خان طلاء شامل ہیں۔ اسی طرح امتحانی مرکز نمبر 618 کے مرداساتذہ میں مسلم خان، ظہیر اللہ خان، نور الاسلام، شہریار اور فضل مولا جبکہ امتحانی مرکز نمبر 629 کے جلیل احمد، امیر رحمان، عاصم خان، سد اللہ، عظمت علی اور محمد شعیب شامل ہیں۔اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ مذکورہ اساتذہ کے خلاف ضابطہ کے مطابق تادیبی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔معطل کئے گئے پشاور ‘ مردان اور چارسدہ کے نواحی سرکاری ہائی اور پرائمری سکولوں سے میٹرک کے امتحانی ڈیوٹی پر تعینات کئے گئے تھے ۔