امن معاہدہ طے پا گیا تو پاکستان جائوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن (پی این ایچ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان ہفتوں سے جاری تنازع کے خاتمے کے لئے امن معاہدہ طے پا جاتا ہے تو وہ پاکستان کے دورے پر غور کریں گے۔انہوں نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں پاکستان جاؤں گا۔ ہاں۔ اگر اسلام آباد میں معاہدہ پر دستخط ہوتے ہیں تو میں جا سکتا ہوں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں فریق ممکنہ طور پر ہفتے کے آخر میں دوبارہ بالمشافہ مذاکرات شروع کریں گے۔ٹرمپ نے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے جا رہے ہیں اور یہ ایک اچھا معاہدہ ہوگا، ایسا معاہدہ جس میں کوئی جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔ ہمارے ایران کے ساتھ کافی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ ممکن ہے انہیں ایران کے ساتھ موجودہ دو ہفتوں کی جنگ بندی میں توسیع کی ضرورت نہ پڑے جو اگلے ہفتے ختم ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اچھی پیش رفت کر رہے ہیں، میں آپ کو بتا سکتا ہوں۔ مجھے نہیں لگتا کہ جنگ بندی میں توسیع کی ضرورت ہے۔دریں اثنا ٹرمپ نے ایران کی یورینیم افزودگی معطل کرنے کے لئے امریکہ کی مبینہ 20 سالہ مدت کو مسترد کر دیا۔ٹرمپ نے کہا کہ ہمارا ایک بہت مضبوط موقف ہے کہ ایران 20 سال بعد بھی جوہری ہتھیار نہیں رکھے گا۔ یعنی جوہری ہتھیار نہ رکھنے کی کوئی 20 سالہ حد نہیں۔امریکی صدر نے ایران کے افزودہ یورینیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تہران نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ ہمیں وہ جوہری مواد واپس دے گا جو ہمارے بی۔ٹو بمبار طیاروں کے حملے کے بعد زمین کے اندر دب گیا تھا۔تاہم ٹرمپ نے یہ بھی دہرایا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوگئے تو وہ بمباری دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی دے سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو لڑائی دوبارہ شروع ہو جائے گی۔