آئی ایم ایف سے سٹاف لیول معاہدہ مکمل، منظوری جلد متوقع ہے،سینیٹر محمد اورنگزیب

واشنگٹن (پی این ایچ)وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محد اورنگزیب نے کہاہے کہ آئی ایم ایف سے سٹاف لیول معاہدہ مکمل ہوگیا، منظوری جلد متوقع ہے، پاکستان تمام بیرونی مالی ذمہ داریاں بروقت پوری کرے گا، پہلے پانڈا بانڈ کا اجرا مالی وسائل کو متنوع بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاس 2026ء کے موقع پر جے پی مورگن کے زیر اہتمام ‘پاکستان: معاشی و مالیاتی پالیسی کا جائزہ’ کے عنوان سے منعقدہ سرمایہ کاری سیمینار میں شرکت کی جہاں انہوں نے عالمی سرمایہ کاروں سے گفتگو کی۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کیساتھ توسیعی مالی سہولت(ای ایف ایف)کے تیسرے جائزے اور مزاحمتی صلاحیت اور پائیدار ترقی کی مالی سہولت(آر ایس ایف)کے دوسرے جائزے کیلئے سٹاف لیول معاہدہ مکمل کر لیا ہے جس کی منظوری جلد متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی تمام بیرونی مالی ذمہ داریاں بروقت پوری کرے گا، اس حوالے سے سعودی عرب کی جانب سے فراہم کردہ مالی معاونت اہم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے پانڈا بانڈ کا اجرا مالی وسائل کو متنوع بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ انہوں نے خطے میں جاری صورتحال کے تناظر میں توانائی فراہمی انتظام سے متعلق حکمت عملی پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طلب کا انتظام، مارکیٹ کے مطابق فیصلے و مکمل قیمتوں کی منتقلی شامل ہے جبکہ کمزور طبقات کیلئے ہدفی ڈیجیٹل سبسڈیز فراہم کی جا رہی ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاس 2026 کے موقع پر موڈیز کے نمائندگان سے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (EFF) کے تیسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (RSF) کے دوسرے جائزے کے لیے اسٹاف لیول معاہدہ مکمل کر لیا ہے جس کی منظوری جلد متوقع ہے۔سینیٹر اورنگزیب نے پاکستان کی بیرونی مالی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ملک نے یورو بانڈ کی ادائیگی کامیابی سے مکمل کر لی ہے اور تمام قرض دہندگان کی ذمہ داریاں بروقت پوری کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب کی مالی معاونت کو بھی اہم قرار دیا، جو بیرونی مالی پوزیشن کو مزید مضبوط کرے گی۔وزیر خزانہ نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں دوبارہ رسائی کے لیے پاکستان کی درمیانی مدت کی حکمت عملی پر روشنی ڈالی، جس میں یورو بانڈ اور ڈالر میں طے شدہ روپے سے منسلک بانڈ کے اجرا پر کام جاری ہے۔انہوں نے جاری علاقائی صورتحال کے تناظر میں توانائی کے شعبے میں حکومتی اقدامات کا بھی ذکر کیاجن میں سپلائی چین کو محفوظ بنانا، مکمل قیمتوں کی منتقلی اور کمزور طبقات کے لیے ہدفی ڈیجیٹل سبسڈیز شامل ہیں۔سینیٹر اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان نے موجودہ بحران میں داخل ہوتے وقت گزشتہ سال کے مقابلے میں کھاد کے زیادہ ذخائر رکھے جس سے کاشت کے اہم سیزن میں مدد ملے گی۔ملاقات کے اختتام پر وزیر خزانہ نے موڈیز کے ساتھ مسلسل رابطے اور تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاس 2026 کے موقع پر چین کے وزیر خزانہ لان فوآن سے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران وزیر خزانہ نے پاکستان کے لیے چین کی دیرینہ اور مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا اور آئی ایم ایف میں چین کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے تعمیری کردار کو بھی سراہا۔سینیٹر اورنگزیب نے اپنے چینی ہم منصب کو پاکستان کے آئی ایم ایف پروگرام کی پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (EFF) کے تیسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (RSF) کے دوسرے جائزے کیلئے اسٹاف لیول معاہدہ مکمل ہو چکا ہے، جس کی منظوری مئی کے آغاز میں متوقع ہے۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان نے 1.4 ارب ڈالر کا یورو بانڈ ادا کر دیا ہے اور سعودی عرب سے نمایاں اضافی مالی معاونت بھی حاصل کی ہے، جس سے بیرونی مالی پوزیشن مضبوط ہوگی۔انہوں نے پاکستان کے پہلے پانڈا بانڈ کے اجرا سے متعلق پیش رفت سے بھی آگاہ کیا، جو مالی وسائل کو متنوع بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔سینیٹر اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تجارت کا بڑا حصہ اب رینمنبی (RMB) میں طے ہو رہا ہے جس کے باعث بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں کو سہارا دینے کے لیے کرنسی سوآپ سہولت میں اضافہ ضروری ہے۔وزیر خزانہ نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو تسلیم کرنے پر چینی وزیر خزانہ کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) ڈویلپمنٹ بینک کے قیام کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان ستمبر میں ایس سی او کی صدارت سنبھالنے جا رہا ہے۔ملاقات کے اختتام پر وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک میں چین کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کی مسلسل حمایت پر بھی شکریہ ادا کیا۔ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاس 2026 کے موقع پر اوپیک فنڈ برائے بین الاقوامی ترقی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبد الحمید الخلیفہ سے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران وزیر خزانہ نے پاکستان کے ساتھ اوپیک فنڈ کے بڑھتے ہوئے تعاون کو سراہا اور حالیہ منظور شدہ اور جاری منصوبوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے پاکستان کے ایک ذمہ دار قرض لینے والے ملک کے طور پر مضبوط ریکارڈ اور دوطرفہ تعاون کے معیار کو بھی سراہا۔سینیٹر اورنگزیب نے اوپیک فنڈ کی تینوں مالی سہولتوں، سرکاری شعبے کے لیے قرضہ، نجی شعبے کی مالی معاونت اور اسلامی فنانس سے بھرپور فائدہ اٹھانے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔انہوں نے اوپیک فنڈ کو پاکستان میں نجی شعبے میں مزید سرمایہ کاری بڑھانے کی ترغیب دی اور پالیسی سے منسلک بجٹ سپورٹ پروگرامز کے امکانات پر بھی زور دیا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے پیش نظر پانی کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے پاکستان کے لیے قومی سلامتی کی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اوپیک فنڈ کی ترجیحات، ماحولیاتی تبدیلی، غذائی تحفظ اور ڈیجیٹل تبدیلی پاکستان کی ترقیاتی ضروریات سے مکمل ہم آہنگ ہیں۔وزیر خزانہ نے اوپیک فنڈ کے سربراہ کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی تاکہ باہمی تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے۔ملاقات کے اختتام پر سینیٹر محمد اورنگزیب نے ویانا میں اوپیک فنڈ کے آئندہ پروگرام میں شرکت کی دعوت پر ڈاکٹر عبد الحمید الخلیفہ کا شکریہ ادا کیا۔