اسلام آباد (پی این ایچ)وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار برتھ نے کہا ہے کہ بچوں کو ماں کا دودھ پلانا صرف صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کے روشن مستقبل، مضبوط معیشت اور نسل نو کو بچانے کیلئے ایک بہترین سرمایہ کاری ہے،تندرست معاشرے کی بنیاد رکھنے کے لیے یہ سب سے مؤثر راستہ ہے۔اتوار کو یہاں جاری بیان کے مطابق وہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پارلیمنٹری سروسز میں ہیلتھ سروسز اکیڈمی (ایچ ایس اے) اور یونیسیف کے اشتراک سے ”غذائیت اور ابتدائی بچپن کی نشوونما ” کے قانون سازی کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے کیلئے ایک اعلیٰ سطحی مذاکرے سے خطاب کررہے تھے۔ تقریب میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اراکین، ماہرینِ غذائیت، ماہرینِ اطفال اور وزارت صحت کے حکام شریک تھے۔ مذاکرے کا مقصد بچوں کو ماں کا دودھ پلانے کے تحفظ اور مارکیٹ میں دستیاب متبادل دودھ کی روک تھام کیلئے قانون سازی کرنا تھا۔ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے وائس چانسلر ڈاکٹر شہزاد علی خان نے نشاندہی کی کہ قوانین موجود ہونے کے باوجود انفورسمنٹ اور سپورٹ سسٹم کی کمی کی وجہ سے وہ محض کاغذوں تک محدود ہیں۔ انہوں نے فعال انفینٹ فیڈنگ بورڈز اور احتسابی طریقہ کار کی ضرورت پر زور دیا۔شرکاء کو بتایا گیا کہ پاکستان میں ماں کا دودھ پلانے سے متعلق قوانین پر عملدرآمد میں سنگین خلا موجود ہے،صرف 20 فیصد نومولود بچوں کو پیدائش کے پہلے گھنٹے میں ماں کا دودھ میسر آتا ہے، پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ پینے والے بچوں کی شرح محض 48 فیصد ہے،ان وجوہات کی بنا پر پانچ سال سے کم عمر بچوں میں قد کے چھوٹے رہ جانے کی شرح 38 فیصد ہے جبکہ سالانہ 33,000 سے زائد بچے بروقت احتیاط نہ ہونے کی وجہ سے وفات پا جاتے ہیں۔مذاکرے میں انکشاف کیا گیا کہ پاکستان سالانہ 110 ارب روپیسے زائد فارمولا دودھ پر خرچ کر رہا ہے جبکہ حقیقت میں 2000 سے بھی کم شیر خوار بچوں کو طبی بنیادوں پر متبادل دودھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یونیسیف کی ڈپٹی کنٹری نمائندہ شرمیلا رسول نے کہا کہ کام کی جگہوں پر ماؤں کو سہولیات فراہم کرنا اور غلط معلومات کا مقابلہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔مذاکرے کے اختتام پر تمام شرکاء اور پارلیمنٹرینز نے ایک مشترکہ اعلامیے کی توثیق کی جس میں قانون سازی کو مزید سخت بنانے کا عزم کیاگیا۔شرکاء نے انفورسمنٹ کے عمل میں موجود رکاوٹوں کو دور کرنے پر اتفاق کیا۔بچوں کی بہتر نشوونما کے لیے پارلیمنٹ کے آئینی کردار اور نگرانی کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا گیا۔
ماں کا دودھ صرف صحت نہیں ،معاشی و انسانی سرمائے کی ضمانت ہے،ڈاکٹر مختار برتھ
