اسلام آباد (پی این ایچ) وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر 129 ارب روپے سبسڈی دے رہے ہیں، معیشت کی بہتری کے لیے اقدامات جاری ہیں، حکومت معیشت کی بہتری کیلئے مسلسل اقدامات کر رہی ہے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، چھوٹے کسانوں کو بھی سبسڈی کے ذریعے سہولت فراہم کی جا رہی ہے،عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے اور کئی ممالک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کا سامنا رہا ہے،توانائی کا شعبہ انفرااسٹرکچر کے مسائل کا شکار ہے اور آئل اینڈ گیس کا درآمدی بل بھی بڑھ رہا ہے، تاہم اب تک امپورٹ اور ایکسپورٹ پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا،پاکستان سفارتی سطح پر بھی اپنا مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ منگل کوقومی اسمبلی کے اجلاس میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور حالیہ علاقائی بحران پر بحث کو سمیٹتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ بحث کے دوران مفید اور تعمیری تجاویز آئی ہیں، ہمیں بہتری کی امید ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ مشکل حالات کے لئے منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ مارچ سے لے کر اب تک جو کچھ ہوا ہے اسے حقائق کی نظر سے دیکھنا ضروری ہے، 14 مارچ سے لے کر 4 اپریل تک کی مدت میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو روکے رکھا گیا اور اس دوران 129 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی گئی، یہ سب سبسڈی کفایت شعاری اور دیگر اقدامات کے ذریعے فراہم کی گئی۔ وزارت خزانہ نے اس پر کام کیاجبکہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات کے حوالے سے تھرڈ پارٹی آڈٹ کا حکم بھی دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر سبسڈی دینے کے لئے پی ایس ڈی پی میں 100 ارب روپے کی کٹوتی کی گئی چونکہ ہم ایک بحران سے گزر رہے ہیں اس لئے پبلک سیکٹر کے سرکاری ملکیتی اداروں سے ڈیوڈنڈ و منافع اور دیگر ذرائع سے رقم حاصل کی گئی اور یوں 129 ارب روپے فراہم کئے گئے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ محدود وسائل کے ساتھ ہم یہاں تک پہنچے ہیں،اب ہدف پر مبنی سبسڈی پر عملدرآمد ہو رہا ہے، موٹر سائیکل سواروں، پبلک ٹرانسپورٹ اور ڈیزل سے چلنے والی مال برداری کو سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ زراعت کے شعبے میں چھوٹے کسانوں اور زمینداروں کا خاص خیال رکھا گیا ہے، صوبوں کے پاس ایک مربوط ڈیٹا موجود ہے، پنجاب کے پاس 8 لاکھ کسان کارڈ جبکہ سندھ کے پاس ہاری کارڈ ہے، سٹیٹ بینک اور بینکوں کے سربراہان کے ساتھ میری تفصیلی گفتگو ہوئی ہے اور بہت جلد حقداروں کو سبسڈی کی پہلی قسط مل جائے گی۔وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت صورت حال کا تفصیل سے جائزہ لے رہی ہے، پٹرولیم کی قیمتوں کی نگرانی کے لئے قائم کمیٹی باریک بینی سے کام کر رہی ہے،ہم مختلف ممالک کی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں، کئی ممالک میں راشن بندی تک شروع ہو چکی ہے، یو اے ای میں پٹرول کی قیمت میں 30 فیصد اور ڈیزل کی قیمت میں 70 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ بھارت، سری لنکا اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں،ہماری دعا ہے کہ خطے میں امن آئے اور حالات معمول کے مطابق ہو جائیں، حالات میں بہتری کے لئے پاکستان مؤثر کردار ادا کر رہا ہے، حالیہ بحران کے دوران توانائی کے انفراسٹرکچر پر بھی حملے ہو رہے ہیں، اس لئے اگر جنگ بندی ہو جائے تو بھی صورتحال کو معمول پر لانے میں ہفتے اور مہینے لگ سکتے ہیں، ہم اس صورتحال کے تناظر میں حالات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں، ایل این جی اور گیس کے بل بڑھ رہے ہیں جبکہ فریٹ اور انشورنس کے اخراجات بھی بڑھ رہے ہیں۔ مزید برآں کئی اراکین نے جی سی سی ممالک کو برآمدات کے حوالے سے بھی بات کی ہے، ہم پوری صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں، ابھی تک ترسیلات زر پر کوئی اثر نہیں آیا ہے، 50 فیصد ترسیلات زر خلیجی ممالک سے آ رہی ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ مجموعی معیشت کے استحکام اور بہتر نظم و ضبط کی وجہ سے پاکستان نے حالات کا بہتر طریقے سے مقابلہ کیا ہے۔ رواں ہفتے 1.4 ارب ڈالر کے یوروبانڈز اوردیگر بین الاقوامی ادائیگی بھی کی جا رہی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے پروگرام پر عمل پیرا ہے۔ 26 اداروں کو نجکاری کمیشن کے حوالے کر دیا گیا ہے، پی آئی اے اور فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری ہو چکی ہے، جو ادارے نجکاری کے قابل نہیں تھے انہیں بند کر دیا گیا ہے اور ان کے ملازمین کو پیکیجز دیئے گئے ہیں، یہ ایسے ادارے تھے جن میں سبسڈی کے باوجود کرپشن ہو رہی تھی، اسی طرح دیگر اداروں کو بھی بند کیا جائے گا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ کوویڈ اور حالیہ تجربات سے سیکھتے ہوئے پاکستان نے سٹرٹیجک ذخائر کی تعمیر پر کام شروع کر دیا ہے، اس ضمن میں ہم دیگر ممالک سے بہت کچھ سیکھ رہے ہیں جبکہ توانائی کے شعبے میں جامع اصلاحات پر بھی عملدرآمد ہو رہا ہے، اس وقت سولر توانائی سے 8,000 میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے، وزیراعظم نے ماحول دوست توانائی کے فروغ کے لئے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔
معیشت کی بہتری کے لیے اقدامات جاری ہیں، وزیر خزانہ
