پشاور(پی این ایچ)گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے نوجوانوں کو ملک کا سب سے بڑا اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانوں کو فیصلہ سازی کا حصہ بنانا ہوگا، جب نوجوانوں کو اپنی آواز سنے جانے کا یقین ہوگا تو وہ شدت پسندی سے دور رہ کر مثبت کردار ادا کریں گے،نوجوانوں اور خواتین کو قومی ترقی کے عمل میں مرکزی حیثیت دینا ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کوگورنر ہاؤس پشاور میں IRCRA اور PPAF کے زیر اہتمام ریجنل ڈائیلاگ کانفرنس سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔کانفرنس کا موضوع”ریاست، معاشرہ، امن اور خیبرپختونخوا میں سماجی ہم آہنگی”تھا۔کانفرنس میں میجر جنرل (ر) انعام الحق، بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف، آئی آر سی آر اے کے صدر محمد اسرار مدنی، مولانا یوسف شاہ، چیف پروگرام پی پی اے ایف ارشاد راشد، خیبرپختونخوا اسمبلی میں پی پی پی کے پارلیمانی لیڈر احمد کریم کنڈی، ڈاکٹر عامر رضا، سابق رکن صوبائی اسمبلی شگفتہ ملک، اراکین صوبائی اسمبلی سمیت مختلف طبقہ فکر کے شخصیات، ضم اضلاع سمیت صوبہ بھر کے نوجوانوں، سول سوسائٹی کے نمائندگان اور خواتین نے شرکت کی۔کانفرنس سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے امن، رواداری اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کیلئے مشترکہ کوششوں پر زور دیا، کانفرنس کے شرکاء نے ریاست اور عوام کے درمیان خلیج کو کم کرنے پر اتفاق کیا اور اپنی تجاویز اور آراء پیش کیں۔ گورنر نے کہا کہ خیبرپختونخوا نے دہشت گردی اور بدامنی کے مشکل ادوار دیکھے ہیں، تاہم یہاں کے عوام نے بے مثال قربانیوں کے ذریعے امن کی بحالی میں تاریخی کردار ادا کیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ امن صرف بندوق کی خاموشی کا نام نہیں بلکہ یہ ایک جامع تصور ہے جو انصاف اور برابری سے جڑا ہوا ہے۔ گورنر نے کہا کہ خواتین اور نوجوان کسی بھی معاشرے کی اصل طاقت ہوتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ انہیں تعلیم، روزگار اور قیادت کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ ملکی ترقی میں بھرپور حصہ ڈال سکیں۔نوجوان نسل کو درست سمت دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، کیونکہ یہی مستقبل کے معمار ہیں۔ یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ انہیں مثبت سوچ، شعور اور درست رہنمائی فراہم کریں۔ گورنر نے کہا کہ پائیدار امن کے قیام کیلئے ریاست اور معاشرے کے درمیان مضبوط تعلق اور مسلسل مکالمہ ناگزیر ہے۔آج کی دنیا میں ریاست کی مضبوطی کا دارومدار عوام کے اعتماد، شفاف طرز حکمرانی اور مسلسل مکالمے پر ہے۔ انہوں نے اختلاف رائے کو جمہوریت کا حسن قرار دیتے ہوئے کہا کہ باہمی احترام اور برداشت کے ذریعے ہی ایک مضبوط اور متحد قوم تشکیل دی جا سکتی ہے۔ گورنر نے کہا کہ جب تک ہم سچ کا سامنا نہیں کریں گے اور اپنی غلطیوں کو تسلیم نہیں کریں گے، ہم ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتے۔ اپنے اہداف کے حصول کے لیے ہمیں مکالمے، برداشت اور باہمی گفتگو کو فروغ دینا ہوگا، کیونکہ پائیدار ترقی اور مضبوط معاشرہ اسی راستے سے ممکن ہے۔ گورنر نے کانفرنس کے منتظمین کی کاوشوں کو سراہا اور اسے ایک اہم و بامقصد اقدام قرار دیا۔ انہوںنے کہاکہ یہ کانفرنس نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ پورے پاکستان کے استحکام اور مستقبل کے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کانفرنس میں ہونے والی گفتگو اور سفارشات ملک میں امن، استحکام اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی۔ آخرمیں شرکاء میں شیلڈز بھی تقسیم کیے گئے۔
نوجوانوں کو فیصلہ سازی کا حصہ بنانا ہوگا،فیصل کریم کنڈی
