ہارٹ اٹیک کیوں ہوتا ہے،کیسے بچا جا سکتا ہے ،جانیے اس رپورٹ میں

ہارٹ اٹیک کا شمار خطرناک بیماریوں میں ہوتا ہے جس کی وجہ سے ہر سال لاکھوں افراد زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔بہت سارے لوگوں کو اچانک ہارٹ اٹیک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہارٹ اٹیک کے دوران یا فوری بعد اگر طبی امداد نہ حاصل کی جائے تو موت کے خطرات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ہارٹ اٹیک چوں کہ اچانک لاحق ہونے والی طبی بیماری ہے جو اس لیے اس سے فوری پہلے کوئی طبی علامت ظاہر نہیں ہوتی۔تاہم کچھ ایسے طبی مسائل کو ہارٹ اٹیک کی علامات سمجھا جاتا ہے جنہیں عام طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ زیادہ تر افراد میں یہ علامات شدید نہیں ہوتیں، اس لیے ان کی طرف توجہ نہیں دی جاتی۔ ان علامات کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے ہارٹ اٹیک بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔
مندرجہ ذیل علامات ظاہر ہونے کی صورت میں آپ کو فوری طور پر طبی امداد حاصل کرنی چاہیئے کیوں کہ یہ ہارٹ اٹیک کی علامات ہو سکتی ہیں،تھکاوٹ کو ہارٹ اٹیک کی سب سے خاموش اور عام علامات سمجھا جاتا ہے۔ ایسے افراد جنہیں ہارٹ اٹیک کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ عام طور پر تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں۔ تھکاوٹ کی وجہ سے انہیں روز مرہ کے کام سر انجام دینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔دل کی بیماریاں چوں کہ ہارٹ اٹیک کی سب سے بڑی وجہ ہیں اس لیے ہارٹ اٹیک سے پہلے جسم میں خون کا بہاؤ شدید متاثر ہوتا ہے۔ خون کا بہاؤ متاثر ہونے کی وجہ سے پٹھوں پر اضافی وزن پڑتا ہے، جس سے تھکاوٹ محسوس ہونے لگتی ہے۔ اگر آپ بھی روز مرہ کی زندگی میں تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں تو ضیاء الدین ہسپتال سے تعلق رکھنے والے ماہرِ امراضِ دل سے رابطہ کریں تا کہ بر وقت پتہ چل سکے کہ تھکاوٹ کی جہ دل کی بیماریاں تو نہیں ہیں۔اگر آپ کو سانس لینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے یا کام کرتے یا سیڑھیاں چڑھتے وقت سانس لینے میں دقت آتی ہے تو یہ ہارٹ اٹیک کی علامت ہو سکتا ہے۔ ہارٹ اٹیک سے پہلے چوں کہ خون کی روانی متاثر ہوتی ہے جس سے سانس لینے کا نظام بھی متاثر ہوتا ہے۔ہارٹ اٹیک کا شکار افراد کو اکثر سینے میں درد بھی رہتا ہے۔ جب کہ کچھ مریض سینے پر معمول سے زیادہ پریشر محسوس کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ سینے کی جکڑن بھی ہارٹ اٹیک کی علامت ہو سکتی ہے۔کچھ لوگوں کو ہارٹ اٹیک سے پہلے جسم کے مختلف حصوں میں درد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہارٹ اٹیک کے مریضوں کا کہنا ہے کہ انہیں ہارٹ اٹیک سے پہلے محسوس ہوتا ہے کہ سینے کا درد جسم کے دوسرے حصوں جیسا کہ کندھوں، جبڑوں، گردن، اور پیٹ کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ہارٹ اٹیک کے مریض متلی کا شکار بھی ہو سکتے ہیں اور انہیں ہر روز قے کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اضطراب کا شمار بھی ہارٹ اٹیک کی عام علامات میں کیا جاتا ہے۔ ہارٹ اٹیک کی وجہ سے اضطراب زیادہ شدت سے متاثر کر سکتا ہے۔
مندرجہ ذیل طریقوں کی مدد سے ہارٹ اٹیک سے بچا جا سکتا ہے
ہارٹ سے بچاؤ میں ایسی غذائیں مدد فراہم کرتی ہیں جن میں فیٹ کم مقدار میں پایا جاتا ہو۔ ایسی غذا میں تازہ پھل، سزباں اور مشروم جیسی مفید چیزیں شامل کیے جا سکتی ہیں جو کہ دل کی صحت کو بہتر بناتی ہیں۔اس کے علاوہ آپ کو نمک کے استعمال میں کمی لانا ہو گی، کیوں کہ نمک کے استعمال سے بلڈ پریشر میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ہارٹ اٹیک سے بچنے کے لیے شوگر سے بھرپور غذاؤں میں کمی لانے کی ضرورت ہوتی ہے، کیوں کہ ان کے استعمال سے ذیابیطس کے خطرات میں اضافہ ہوتا ہے جو کہ ہارٹ اٹیک کی وجہ بن سکتا ہے۔متوازن غذا کے ساتھ اگر جسمانی سرگرمیوں میں اضافہ کیا جائے تو صحت مند وزن کو برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس کے علاوہ صحت مند وزن برقرار رکھنے کی وجہ سے بلڈ پریشر بھی نارمل رہتا ہے۔ ورزش اور جسمانی سرگرمیوں میں اضافے کی وجہ سے خون کی روانی میں بہتری آتی ہے اور کولیسٹرول کا لیول بھی کم ہوتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ورزش کی وجہ سے ہارٹ اٹیک کے خطرات میں بھی کمی آتی ہے۔ باقاعدگی کے ساتھ ورش کرنے سے دل بہتر طریقے سے کام کرتا ہے جس سے ہارٹ اٹیک کے خطرات کم ہو جاتے ہیں۔ اس لیے جسمانی سرگرمیوں کو ہارٹ اٹیک سے بچاؤ کا مفید طریقہ سمجھا جاتا ہے۔اگر سگریٹ نوشی کے عادی ہیں تو آپ کی اس عادت کی وجہ سے آپ کو ہارٹ اٹیک سمیت دل کی دیگر بیماریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سگریٹ نوشی کی وجہ سے خون کی نالیوں کے امراض لاحق ہو سکتے ہیں جو کہ ہارٹ اٹیک کے خطرات میں اضافہ کر سکتے ہیں۔