بنگلا دیش میں عام انتخابات کے لیے باضابطہ انتخابی مہم کا آغاز

ڈھاکا(پی این ایچ)بنگلا دیش میں آئندہ ماہ ہونے والے عام انتخابات کے لیے باضابطہ انتخابی مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔یہ انتخابات 2024 کی عوامی بغاوت کے بعد ہونے والے پہلے انتخابات ہیں، جس کے نتیجے میں سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کی طویل اور آمرانہ حکومت کا خاتمہ ہوا تھا۔بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی)کے مرکزی رہنما اور وزارتِ عظمی کے امیدوار طارق رحمان کی قیادت میں شمالی شہر سلہٹ میں ایک بڑے انتخابی جلسے کا انعقاد کیا گیا، جس میں ہزاروں کارکنوں اور حامیوں نے شرکت کی۔ مظاہرین پارٹی جھنڈے اٹھائے طارق رحمان کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔طارق رحمان گزشتہ ماہ 17 سالہ جلاوطنی کے بعد وطن واپس آئے تھے۔ وہ سابق وزیرِاعظم خالدہ ضیا کے صاحبزادے ہیں، جو دسمبر میں 80 سال کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں۔انتخابات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ملک میں سیاسی بے یقینی، سکیورٹی خدشات اور سوشل میڈیا پر جعلی خبروں کے پھیلا پر تشویش پائی جا رہی ہے۔ سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کے خلاف مظاہروں کے دوران ایک طالب علم رہنما کے قتل نے حالات کو مزید حساس بنا دیا ہے۔نگراں حکومت کے سربراہ اور نوبیل انعام یافتہ محمد یونس نے کہا ہے کہ وہ ایک تباہ شدہ سیاسی نظام ورثے میں لے کر آئے تھے۔ انہوں نے سیاسی اصلاحات کے لیے ایک ریفرنڈم کی تجویز دی ہے، جو انتخابات کے روز ہی کرایا جائے گا۔محمد یونس کے مطابق اگر عوام اصلاحات کے حق میں ووٹ دیتے ہیں تو نئے بنگلا دیش کی بنیاد رکھی جا سکے گی۔ انتخابات کے بعد وہ نگراں حکومت سے دستبردار ہو جائیں گے۔