واشنگٹن(پی این ایچ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران سے جنگ بندی میں توسیع پر غور نہیں کر رہے اور شاید اس کی ضرورت ہی نہ پڑے۔امریکی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جنگ ختم ہونے کے قریب ہے، ایران بہت شدت سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے، آنے والے دو دنوں میں ایک حیرت انگیز منظر دیکھنے کو ملے گا، امریکا کی ترجیح معاہدہ کرنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایران کے حملوں سے خلیجی ملکوں کو شدید دھچکا پہنچا، انہیں ہرگز توقع نہیں تھی کہ ایران ان پر حملہ کردے گا، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شدید حیران ہوئے جب ایران نے ان پر حملہ کیا، ان ملکوں کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ ان پر بھی حملہ ہوسکتا ہے۔امریکی صدر نے دعوی کرتے ہوئے کہا کہ ایران سے جنگ بندی میں توسیع پر غور نہیں کر رہے کیونکہ شاید اس کی ضرورت ہی نہ پڑے۔کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر اور معروف ماہرِ معاشیات پروفیسر جیفری سکس نے ایران کشیدگی، ناکام مذاکرات اور موجودہ امریکی پالیسی سازی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے ے مطابق جیفری سکس نے اس صورتحال کو غیر منظم، غیر شفاف اور افراتفری پر مبنی قرار دیا اور صدر ٹرمپ کی ذات، رویے اور ذہنی کیفیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں یہ سب کچھ کسی گہری یا انتہائی ذہین حکمت عملی کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ اس میں ایک طرح کی افراتفری شامل ہے۔اب دوبارہ آبنائے ہرمز کبھی بند نہیں ہوگی، چین اس کے بدلے ایران کو ہتھیار فراہم نہ کرنے کیلئے رضامند ہوگیا: ٹرمپپروفیسر جیفری سکس کے مطابق درحقیقت امریکا کہنا بھی عجیب لگتا ہے کیونکہ یہ امریکا نہیں بلکہ ایک شخص ہے، وہ سمجھتا ہے کہ وہ دھمکی، دباو اور شور شرابے کے ذریعے اپنا مقصد حاصل کر سکتا ہے، یہ جزوی طور پر ایک فریب ہے، وہ شروع سے یہی سوچتا آیا ہے کہ وہ مطالبات کرے، دھمکیاں دے، بمباری کرے اور اس کے نتیجے میں اسے کامیابی مل جائے گی۔انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے وہ واقعی اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ وہ دھوکے یا طاقت کے ذریعے کامیاب ہو سکتا ہے، یہ دراصل ایک فرد کا شو ہے، میرے خیال میں ایک وہمی اور نااہل ایک شخص، یہ سب کچھ ایک شخص ڈونلڈ ٹرمپ کے گرد گھوم رہا ہے، میں اس میں کوئی گہری حقیقت نہیں دیکھتا سوائے اس کے کہ ایک نااہل، وہمی بوڑھا آدمی شور مچا رہا ہے، دھمکیاں دے رہا ہے، بمباری کر رہا ہے اور قتل کر رہا ہے تاکہ اپنی مرضی منوا سکے۔ ٹرمپ کی ذہنی کیفیت پر جیفری سکس نے مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے ٹرمپ کا توازن بگڑ چکا ہو، وہ ایسے بیانات اور پوسٹس کر رہا ہے جو معمول سے بہت زیادہ ہٹ کر ہیں، ایسے جملے جو امریکی تاریخ میں کسی صدر نے نہیں کہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ فوری معاہدے کرنا چاہتے ہیں لیکن ایران پر دبا کے آپشنز بھی برقرار ہیں۔امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہائوس کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے کے خواہاں ہیں اور پرامن حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم وہ تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پابندیوں سمیت دیگر اقدامات بدستور زیرِ غور ہیں۔اسٹیفن ملر نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ امن چاہتے ہیں، وہ ایک معاہدہ چاہتے ہیں، وہ درست راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں، تاہم وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے یا اس کی کوشش کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ایران پر پابندی سمیت ہر آپشن میز پر موجود ہے کیونکہ صدر ٹرمپ دنیا کے عوام کے لیے ایک محفوظ اور مستحکم حتمی نتیجہ چاہتے ہیں۔ٹرمپ کے اس دعوے کے باوجود کہ دیگر ممالک بھی فوجی کارروائی میں شامل ہوں گے، تاحال کوئی ملک شامل نہیں ہوا۔وائٹ ہائوس کے مطابق آپریشن مکمل طور پر کامیابی سے جاری ہے۔رپورٹ کے مطابق ایک مختصر اور نجی عشائیے کے دوران صدر ٹرمپ نے نیدر لینڈز کے بادشاہ اور ملکہ کو بتایا کہ میں ایران میں جاری جنگ کو جلد از جلد ختم کرنا چاہتا ہوں۔عشائیے پر جن عہدیداروں کو بریفنگ دی گئی، ان کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے شاہی مہمانوں اور ڈچ حکام کو وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تہران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کا واحد طریقہ اس پر دبا میں اضافہ کرنا ہے۔
جنگ بندی میں توسیع پر غور نہیں کر رہے، شاید اس کی ضرورت ہی نہ پڑے، ٹرمپ
