کولمبو (پی این ایچ)آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 سے متعلق بنگلا دیش اور آئی سی سی کے درمیان جاری تنازع پر آخر کار سری لنکا نے خاموشی توڑ دی اور کہاہے کہ سری لنکا علاقائی تنازعات میں فریق نہیں بننا چاہتا۔ تفصیلات کے مطابق آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے معاملے پر بنگلا دیش اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے درمیان تنازع 3 ہفتوں تک جاری رہا۔بنگلا دیش نے سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے بھارت میں شیڈول اپنے میچز سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کی تھی، بنگلا دیش کو ابتدائی مرحلے میں کولکتہ اور ممبئی میں 4 میچز کھیلنے تھے۔آئی سی سی نے یہ درخواست مسترد کرتے ہوئے بنگلا دیش کو 24 گھنٹے کا حتمی الٹی میٹم دیا تاہم بنگلا دیش اپنے موقف پر قائم رہا، نتیجتاً آئی سی سی نے بنگلا دیش کو ٹورنامنٹ سے باہر کر کے اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کر لیا۔ان حالات میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا شریک میزبان سری لنکا کافی عرصے سے خاموش تھا تاہم اب اس کے کرکٹ سیکریٹری بندولا ڈسانائیکے نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ سری لنکا علاقائی تنازعات میں فریق نہیں بننا چاہتا۔بندولا ڈسانائیکے کے مطابق بھارت، پاکستان اور بنگلا دیش سری لنکا کے دوست ممالک ہیں اسی لیے کولمبو غیر جانبدار رہنے کو ترجیح دے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر مستقبل میں کوئی بھی ملک میچز یا ٹورنامنٹس کی میزبانی کے لیے سری لنکا سے رجوع کرے تو اس پر غور کیا جائے گا۔واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کے باعث دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف میچز غیر جانبدار مقامات پر کھیلتی ہیں۔ یاد رہے کہپاکستان اپنے ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے میچز سری لنکا میں کھیلے گا جن میں بھارت کے خلاف میچ بھی شامل ہے۔سری لنکا کے وزیرِ کھیل سنیل کمارا گامگے نے کہا کہ ٹورنامنٹ کے پرامن اور کامیاب انعقاد کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے اور پاک بھارت میچز پر خصوصی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کا آغاز 7 فروری کو ہو گا جبکہ فائنل میچ 8 مارچ کو کھیلا جائے گا۔
سری لنکا علاقائی تنازعات میں فریق نہیں بننا چاہتا
