بری خبر یہ ہے کہ ابھی تک حتمی معاہدے تک نہیں پہنچے، یہ امریکہ سے زیادہ ایران کیلئے بری خبر ہے،جے ڈی وینس
مذاکرات 14 گھنٹے بعد اختتام پذیر،بعض اختلافات رہ گئے ہیں اس کے باوجود مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا،ایرانی حکومت
اسلام آباد/تہران(پی این ایچ) پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے تاہم دونوں ممالک نے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ہمارے ایران کے ساتھ طویل مذاکرات ہوئے ہیں لیکن بری خبر یہ ہے کہ ابھی تک حتمی معاہدے تک نہیں پہنچے اور یہ امریکا سے زیادہ ایران کیلئے بری خبر ہے، ایران نے امریکی شرائط تسلیم نہ کرنے کا انتخاب کیا،ایرانی وفد سے جوہری ہتھیاروں سے متعلق کوئی واضح عزم نہیں سنا، ہمیں واضح یقین دہانی درکار ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے وفود کے درمیان براہ راست مذاکرات ہوئے ، مذاکرات کا سلسلہ 14گھنٹے سے زائد دیر تک جاری رہا اور مذاکرات کے کئی دور ہوئے ۔ امریکی نائب صدر نے ایران سے مذاکرات کے بعد پریس بریفنگ کے دور ان وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل نے حیرت انگیز کام کیا، دونوں نے امریکا ایران اختلافات دور کرنے کی کوشش کی۔جے ڈی وینس نے کہا مذاکرات میں جو کمی رہ گئی وہ پاکستانیوں کی وجہ سے نہیں تھی، پاکستان نے ہمارے اور ایران کے درمیان فاصلے کم کرنے میں بہترین کام کیا، پاکستان نے کسی معاہدے تک پہنچنے میں مدد کرنے کی بھرپورکوشش کی۔نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے بتایا کہ ایران کے ساتھ 21 گھنٹے سے مذاکرات جاری رہے جس میں مختلف امور پر بات چیت کی گئی، مذاکرات میں نیک نیتی کے ساتھ شرکت کرکے اپنی شرائط پیش کی۔جے ڈی وینس نے کہاکہ اچھی خبر یہ ہے کہ ہماری ایران کے ساتھ سنجیدہ گفتگو ہوئی، بری خبر یہ ہے کہ ہم کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے، میرا خیال ہے یہ خبر ایران کیلئے امریکاکے مقابلے میں کہیں زیادہ بری ہے۔نائب امریکی صدر نے کہا ایران نے امریکی شرائط تسلیم نہ کرنے کا انتخاب کیا، کسی ڈیل کے بغیر ہم واپس امریکا جا رہے ہیں، ہم یہاں ایک سادہ تجویز اور باہمی سمجھ بوجھ کے طریقہ کار کے ساتھ آئے تھے، ہم ایک حتمی اور بہترین آفر پیش کرنے کے بعد روانہ ہو رہے ہیں، یہی ہماری آخری اور بہترین پیشکش ہے، دیکھتے ہیں ایرانی اسے قبول کرتے ہیں یا نہیں۔انہوںنے کہاکہ ایرانی وفد سے جوہری ہتھیاروں سے متعلق کوئی واضح عزم نہیں سنا، ہمیں واضح یقین دہانی درکار ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا، امریکی صدرکا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنائے۔نائب صدر نے کہاکہ اپنی ریڈ لائنز اور جن چیزوں کو موزوں بنا سکتے ہیں وہ بتادی ہیں، ایرانیوں کو وہ چیزیں بھی بتائیں جو ہم ایڈجسٹ نہیں کرسکتے۔جے ڈی وینس سے سوال کیا گیا کہ مذاکراتی عمل کے دوران ان کا صدر ٹرمپ سے کتنی بار رابطہ ہوا جس کے جواب میں جے ڈی وینس نے کہاکہ ہم مسلسل صدر سے رابطے میں تھے، مجھے نہیں معلوم کہ گذشتہ 21 گھنٹوں میں کتنی بار بات ہوئی ہو گی، شاید ایک درجن مرتبہ۔ہم ایڈمرل کوپر، مارکو، اور پیٹ اور پوری نیشنل سکیورٹی ٹیم سے رابطے میں تھے،ہم مسلسل رابطے میں تھے کیونکہ ہم نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کر رہے تھے۔انہوںنے کہاکہ ہم یہاں ایک انتہائی سادہ سی تجویز ساتھ جا رہے ہیں کہ افہام و تفہیم کا ایک طریقہ کار وضع کیا جائے، یہ ہماری حتمی اور بہترین پیشکش ہے، دیکھنا ہے کہ ایرانی اسے قبول کرتے ہیں یا نہیں۔ایک سوال کے جواب میں جے ڈی وینس نے کہاکہ مذاکرات کے دوران ایران کے منجمد اثاثوں کے متعلق بھی بات ہوئی تاہم ہم اس نکتے پر نہیں پہنچ سکے کہ جہاں ایرانی ہماری شرائط قبول کرتے۔انہوںنے کہاکہ میرے خیال میں ہم نے کافی لچک کا مظاہرہ کیا، صدر نے ہمیں کہا تھا کہ آپ کو نیک نیت کے ساتھ مذاکرات میں جانا ہے اور معاہدے کے لیے اپنی بہترین کوششیں کرنی ہیں ہم نے وہ کیا تاۃہم افسوس ہے کہ کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کے پاس یورینیم افزودگی کی تنصیبات ہیں جو تباہ کردی گئیں، ہم چاہتے ہیں ایرانی ایسے آلات حاصل نہ کریں جن سے وہ جلد نیوکلیئر ہتھیار بناسکتے ہوں، ہم یہ عزم چاہتے ہیں کہ ایران مستقبل میں نیوکلیئر ہتھیار نہیں بنائے گا،دوسری جانب ایران نے اختلافات کے باوجود مذاکرات جاری ر کھنے کا اعلان کردیا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں ایران کی حکومت نے کہا کہ جو اختلافات رہ گئے ہیں اس کے باوجود مذاکرات جاری رہیں گے۔ایرانی حکومت نے کہا کہ ایران امریکا مذاکرات 14 گھنٹے جاری رہے۔ایرانی حکومت نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی میں ہوئے ایران امریکا مذاکرات اب اختتام پذیر ہوگئے ہیں، دونوں ملکوں کی تکنیکی ٹیمیں دستاویز کا تبادلہ کررہی ہیں، جو بعض اختلافات رہ گئے ہیں اس کے باوجود مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ دریں اثناء ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں متعدد نکات پر اتفاق ہوا ہے تاہم دو، تین اہم نکات پر اختلاف رائے کے باعث تاحال جامع معاہدہ طے نہیں پا سکا۔ترجمان اسماعیل بقائی نے کہاکہ مذاکرات بد اعتمادی کے ماحول میں شروع ہوئے تھے اور ایک نشست میں معاہدہ طے پائے جانے کا امکان کم تھا۔انہوںنے کہاکہ یہ مذاکرات 40 روزہ جنگ کے بعد بے اعتمادی اور شکوک و شبہات کے ماحول میں ہوئے، فطری طور پر یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی تھی کہ محض ایک ملاقات میں کوئی معاہدہ طے پا جائے،کسی نے ایسی توقع نہیں کی تھی۔اسماعیل بقائی نے کہاکہ ان مذاکرات میں آبنائے ہرمز جیسے کچھ نئے معاملات بھی شامل کر دیے گئے جن میں سے ہر ایک کی اپنی پیچیدگیاں ہیں۔انہوںنے کہاکہ ایران، پاکستان اور خطے کے دیگر دوستوں کے درمیان رابطے اور مشاورت کا سلسلہ جاری رہے گا۔اسماعیل بقائی نے کہا کہ سفارت کاری کبھی ختم نہیں ہوتی، یہ قومی مفادات کے تحفظ کا ایک ذریعہ ہے۔
امریکہ، ایران مذاکرات بغیر نتیجہ ختم،دونوں ملکوں کا مذاکرات جاری رکھنے کااعلان
