امریکہ اسرائیل کے ڈیڈ لائن سے قبل ایران پر حملے ،پلوں، ریلوے لائنوں کو شدید نقصان،درجنوں شہید

تہران(پی این ایچ)امریکا اور اسرائیل کے ایران کے خارگ جزیرے پر حملے ،تہران سمیت متعدد بڑے شہروں میں انفرا اسٹریکچر بھی زد میں۔ایرانی میڈیا کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے خارگ جزیرے میں جس آئل ٹرمینل کو نشانہ بنایا ہے وہ ملک کا کلیدی تیل برآمدی مرکز ہے جہاں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔سوشل میڈیا پر باخبر صحافی باراک ریوڈ نے امریکی حکام کے حوالے سے دعوی کیا کہ خارگ جزیرے پر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔تاحال ان حملوں میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان سے متعلق کوئی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔ البتہ جائے وقوعہ پر امدادی ٹیموں کو جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔خیال رہے کہ خارگ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ جہاں سے ایران کا خام تیل بڑی مقدار میں عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔دوسری جانب امریکا اور اسرائیل نے صدر ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کو کھولنے کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبل ہی ایران کے شہری علاقوں میں انفرااسٹریکچر کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔ان تازہ امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں پلوں، ریلوے لائنوں اور ایک مرکزی شاہراہ کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ سب سے زیادہ نقصان قم اور کاشان میں ہوا ہے۔ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل اور امریکا کے کاشان شہر کے وسطی علاقے میں ہونے والے حملوں میں 2 افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہوگئے۔ادھر شمالی ایران میں ایک اہم شاہراہ جو تبریز کو زنجان سے ہوتے ہوئے تہران سے ملاتی ہے جو امریکی حملے میں تباہ ہوگئی۔دوسری جانب تبریز سے تقریبا 90 کلومیٹر دور ایک اور مقام پر بھی فضائی حملہ کیا گیا جس میں ایک اوور پاس پل تباہ ہوگیا۔صرف آج ایران پر ہونے والے امریکی و اسرائیلی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 35 ہوگئی جن میں سے 18 البروز صوبے، 9 شہریار، 6 پردیس اور 2 کاشان میں نشانہ بنے۔