تہران(پی این ایچ)ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ لبنان سمیت جاری جنگ بندی کے معاہدے کی مکمل پابندی یقینی بنائی جائے۔انھوں نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ لبنان میں جامع جنگ بندی کی کامیابی بنیادی طور پر حزب اللہ کی مستقل جدوجہد پر منحصر ہے جو ایران کی حمایت یافتہ ایک اہم تنظیم ہے۔قالیباف نے مزید کہا کہ ایران اور اس کے زیرِ اثر محورِ مزاحمت جس میں حزب اللہ، حماس، یمن کے حوثی اور عراقی شیعہ ملیشیائیں شامل ہیں ہر حال میں متحد اور ایک ہی روح کے حامل ہیں چاہے میدان جنگ ہو یا معاہدہ امن۔انہوں نے امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل فرسٹ کی پالیسی سے پیچھے ہٹنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ خطے میں حقیقی اور مستحکم ممکن ہو گا۔ پاکستان کے سپہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ ایران کے اعلی سطح کے دورے پر تہران پہنچے اور اعلی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔اس موقع پر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی میزبانی اور ثالثی کی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کے ایران اور امریکا جنگ بندی کے لیے اقدامات قابل تحسین ہیں۔عباس عراقچی نے کہا کہ ہمسائیہ برادر مسلم ملک کے یہ اقدامات پاکستان اور ایران کے درمیان گہرے اور مضبوط تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے ہمارا عزم مضبوط ہے اور یہ عزم مشترکہ ہے۔ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقانی نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے بعد بھی فریقین کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اسماعیل بقائی نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت کے بعدرابطے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے بلکہ پسِ پردہ سفارتی چینلز کے ذریعے بات چیت جاری ہے۔پس پردہ پیغامات کے تبادلوں کا مقصد کشیدگی کم کرنے، ممکنہ معاہدوں کی راہ ہموار کرنے اور غلط فہمیوں کو دور کرنا ہوتا ہے۔
جنگ بندی میں لبنان کے خلاف حملے بند کرنا ہوں گے، باقر قالیباف
