مقبوضہ کشمیر میں عام آدمی اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہے،محبوبہ مفتی

سری نگر(پی این ایچ)غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموںو کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ بھارت میں یومِ جمہوریہ کی سرکاری تقریبات کے برعکس مقبوضہ علاقے میں عوام آج بھی اپنے بنیادی آئینی حقوق سے محروم ہیں، جہاں آزادی اظہار، مذہبی آزادی اور سیاسی حقوق کو مسلسل سلب کیا جا رہا ہے اور آئینی ضمانتیں عملا بے معنی ہو چکی ہیں۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق محبوبہ مفتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ 15 اگست 1947 کو بھارت کو نوآبادیاتی اقتدار سے آزادی ملی جبکہ 26 جنوری 1950 کو نافذ ہونے والا آئین شہریوں کی عزت، آزادی اظہار، مذہبی آزادی اور حقِ رائے دہی کی ضمانت دینے کیلئے تشکیل دیا گیا تھا۔ ان کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کیلئے یہ حقوق محض کاغذی دعوؤں تک محدود ہو کر رہ گئے ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے حوالے سے آئین کا مقصد مضبوط ادارے قائم کرنا تھا تاکہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے، لیکن افسوس ہے کہ یہی ادارے آج عوام کے خلاف استعمال کیے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں جبر، سیاسی حق تلفی اور شہری آزادیوں کا مسلسل خاتمہ ہو رہا ہے۔مبصرین کے مطابق محبوبہ مفتی کے خیالات مقبوضہ جموں و کشمیر میں پائے جانے والے عوامی احساسات کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں طویل پابندیاں، من مانی گرفتاریاں، اختلافِ رائے کا کچلا جانا اور 2019 میں خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے براہِ راست مرکزی حکمرانی نے کشمیری عوام کو حقیقی جمہوری عمل سے محروم کر دیا ہے۔