ممتاز شاعر و ادیب صوفی غلام مصطفی تبسم کی48ویں برسی 7فروری کو منائی جائے گی

ٹھٹھہ صادق آباد (پی این ایچ) اردو ادب کے ممتاز شاعر و ادیب صوفی غلام مصطفی تبسم کی48ویں برسی 7فروری کو منائی جائے گی اس سلسلے میں ادبی حلقوں میں تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا۔ صوفی غلام مصطفی تبسم اگست 1899ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے تھے۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد انھوں نے تدریس کا پیشہ اپنایا اور لاہور کے تعلیمی اداروں سے وابستہ رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد خانہ فرہنگ ایران کے ڈائریکٹر، لیل و نہار کے مدیر اور کئی دیگر اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئے۔صوفی غلام مصطفی تبسم ادیب و شاعر ہی نہیں استاد، مترجم اور نقاد کی حیثیت سے بھی اپنی علمی و ادبی کاوشوں کے لیے ہم عصروں میں نمایاں ہوئے۔ ان کا ایک نمایاں حوالہ بچوں کا ادب ہے جس میں انہوں نے مضامین و تراجم کے علاوہ خاص طور پر اپنی نظموں سے بچوں کو لطف اندوز ہونے کے ساتھ علم و عمل کی طرف راغب کیا۔ بچوںکے لیے ان کی تخلیقات کو بے حد مقبولیت ملی۔ ٹوٹ بٹوٹ انہی کا تخلیق کردہ وہ کردار ہے جو آج بھی ہمارے ذہن پر نقش پر ہے اور اب بھی یہ نظمیںبچے ذوق و شوق سے پڑھتے ہیں جس کی بدولت صوفی تبسم کا نام ہمیشہ زندہ رہے گاوہ7اگست 1978کو وفات پا گئے۔حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی اور ستار ہ امتیاز سے نوازا جب کہ حکومتِ ایران نے نشانِ سپاس عطا کیا تھا۔ صوفی غلام مصطفی تبسم لاہور کے میانی صاحب کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔