بھارت میں اقلیتوں کیخلاف نفرت ،سنگین انسانی المیہ

اسلام آباد(پی این ایچ)بھارت میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں، دلتوں اور عیسائیوں کے خلاف تعصب اور تشدد میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، یہ ایک سنگین انسانی المیہ ہے جو بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کے لیے بھی شدید تشویش کا باعث ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مودی حکومت کی سرپرستی میں جاری نفرت انگیز تقاریر اور تشدد میں دن بہ دن تیزی آرہی ہے اور ملک اقلیتوں کیلئے انتہائی غیر محفوظ بنتا جا رہا ہے ۔مودی کے ہندوتوا سے متاثرہ نظام میں اونچی ذات کے ہندوؤں کے سوا کوئی بھی محفوظ نہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی خود مسلمانوں کو “درانداز” قرار دیتے ہیں جبکہ تلنگانہ کے بی جے پی رکن اسمبلی ٹی راجہ سنگھ نے کھلے عام مساجد کو مسمار کرنے کا مطالبہ کیا۔ اعلیٰ سیاسی رہنماؤں کی اس طرح کی نفرت سے بھری زبان نے اقلیتوں کے خلاف تشدد کو معمول بنا دیا ہے اور سماجی تقسیم کو مزید گہرا کر دیا ہے۔مودی حکومت میں صرف اور صر ف اونچی ذات کے ہندوئوں کیلئے تحفظ اور وقار برقرار ہے ۔ دلتوں کے ساتھ ہمیشہ دوسرے درجے کے شہریوںجیسا سلوک روا رکھا گیا ہے ۔ اتر پردیش کے علاقے سنبھل میں2 دلت نوجوانوں کوجو کانور یاترا دیکھنے گئے تھے، ہندو ہجوم نے کھمبے سے باندھ کر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ان پر چوری کا الزام لگایا گیا، ان پر تشدد کے ذریعے پوری دلت برادری کو پیغام دیا گیا کہ وہ ہندوئوں کے برابر شہری نہیں اور انکا بھارت میں کوئی مقام نہیں ہے۔حال ہی میںتامل ناڈو میں ایک نوجوان دلت سافٹ ویئر انجینئر کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا، اس کا واحد جرم یہ تھا کہ وہ اپنی ذات سے باہر کسی سے محبت کرنا تھا۔گزشتہ برس پیش آنے والے نفرت انگیز جرائم کے اعداد و شمار نے انسانی حقوق کے اداروں کوششدرکر دیا ہے۔ صرف عیسائی برادری کے خلاف 161 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں 47 صرف چھتیس گڑھ میں پیش آئے ۔ان واقعات میں گرجا گھروں پر حملے، دعائیہ اجتماعات میں رکاوٹ، جسمانی تشدد، ہراسانی اور تبدیلی مذہب جیسے جھوٹے الزامات شامل ہیں۔رواں برس7 مئی کو ”آپریشن سندور”کے دوران بٹھنڈہ کے علاقے اکالیا کلاں میں ایک فوجی طیارہ گر کر تباہ ہوا جس میں ایک دلت مزدور جان بحق ہوا جو اپنے گھر کا واحد کفیل تھا۔ مودی حکومت نے اب تک متاثرہ خاندان کو کوئی معاوضہ نہیں دیا جو دلتوں سے اسکی نفرت کا عکاس ہے۔بھارت میں ایس سی، ایس ٹی، اور او بی سی افراد ملک کی آبادی کا تقریباً 75–80% حصہ ہیںلیکن اہم عہدوں سے ان کی غیر موجودگی واضح ہے۔عدلیہ میں 80 فیصد جج اعلیٰ ذات سے ہیں۔آئی اے ایس (2018–2022) میں درج فہرست ذات کو صرف 7.6%، او بی سی کو 15.9% نمائندگی ملی جو کوٹہ سے کہیں کم ہے۔مرکزی جامعیات میں مختلف شعبوں کے مخصوص عہدے خالی پڑے ہیں۔پروفیسرز کی سطح پر: ایس ٹی: 83%، او بی سی: 80%، ایس سی: 64% نشستیں خالی ہیں۔ایسوسی ایٹ پروفیسرز کی سطح پر: ایس ٹی: 65%، او بی سی: 69%، ایس سی: 51% نشستیں خالی ہیں۔ان نشستوں کا خالی ہونا محض اتفاق یا غفلت نہیں ہے بلکہ یہ ایک منظم سازش ہے،جس کا مقصد نچلی ذات کے لوگوںکو اداروں میں ان کے حق سے محروم رکھنا ہے۔