بھارت کے یومِ جمہوریہ پر مقبوضہ کشمیر میں سخت ترین پابندیاں نافذ

سری نگر(پی این ایچ) غیر قانوی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموںو کشمیر میں بھارتی یومِ جمہوریہ کے موقع پر زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی، جہاں بھارتی انتظامیہ نے وسیع پیمانے پر کثیر سطحی سکیورٹی کریک ڈاؤن نافذ کرتے ہوئے پورے خطے کو عملی طور پر فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا۔ سخت نگرانی، تلاشیوں اور نام نہاد حفاظتی کارروائیوں کے ذریعے بالخصوص جموں اور سری نگر میں غیر معمولی پابنیاں عائد کی گئی ہیں ۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سرمائی دارالحکومت جموں میں غیر معمولی پابندیاں دیکھنے میں آئیں، جہاں بھارتی یومِ جمہوریہ کی مرکزی تقریب مولانا آزاد اسٹیڈیم میں منعقد کی جا رہی ہے۔ اسٹیڈیم اور اس کے گرد و نواح کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے، جبکہ پولیس، سینٹرل ریزرو پولیس فورس اور دیگر نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ نگرانی کے لیے ڈرون کیمروں، اسپاٹرز اور کوئیک رسپانس ٹیموں کو تعینات کیا گیا ہے۔شہر بھر میں چیک پوسٹیں قائم کر کے نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔جموں خطے کے دیگر علاقوں میں بھی پابندیوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، جہاں پولیس، فوج، بارڈر سکیورٹی فورس اور دیگر اداروں کی مشترکہ کارروائیاں ورکنگ باؤنڈری، لائن آف کنٹرول اور اندرونی علاقوں میں جاری ہیں۔ انتظامیہ نے نام نہاد ”آپریشن تھرڈ ون ” پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایات جاری کی ہیں۔ جموں کے مضافات پَرگوال، مَلا بھروڑے اور ملحقہ علاقوں میں پولیس اور ولیج ڈیفنس گارڈز کی مشترکہ گشت جاری ہے، جسے حکام نے یومِ جمہوریہ کی سکیورٹی سے جوڑ کر پیش کیا ہے۔ادھر کٹھوعہ اور کشتواڑ اضلاع کے مختلف علاقوں میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں بدستور جاری رہیں۔اسی دوران سری نگر اور وادی کے دیگر حصوں میں پابندیوں میں واضح اضافہ کیا گیا ہے۔ مودی انتظامیہ کے مطابق ڈائون ٹائون سری نگر اور دیگر حساس علاقوں میں نام نہاد”مخصوص اطلاعات” کی بنیاد پر محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں شروع کی گئیں۔سری نگر میں بالخصوص داخلی و خارجی راستوں اور گنجان آباد علاقوں میں اضافی چیک پوسٹیں اور موبائل ناکے قائم کیے گئے ہیں۔ پولیس اور دیگر فورسز کی جانب سے پیدل چلنے والوں اور مسافروں کی بار بار تلاشی، شناختی دستاویزات کی جانچ اور گاڑیوں کی تفتیش کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔سری نگر کے بخشی اسٹیڈیم کے گرد و نواح میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں، جہاں ضلعی سطح کی بھارتی یومِ جمہوریہ کی تقریب منعقد کی جا رہی ہے۔ اسٹیڈیم کو کثیر سطحی حفاظتی حصار میں لے لیا گیا ہے۔کشمیری عوام بھارت کے نام نہاد قومی دنوں کے مواقع کو سخت پابندیوں اور سکیورٹی جبر کے تناظر میں ایک طویل سیاسی تنازع اور مسلسل ریاستی جبر کی یاد دہانی کے طور پر دیکھتے ہیں جو مقبوضہ علاقے میں بدستور حل طلب ہے۔